سعودی عرب اور امریکا کے درمیان دوسو اسّی ارب ڈالر کے معاہدے
امریکا اور سعودی عرب کے سربراہوں نے مختلف میدانوں بالخصوص فوجی میدان میں دو سو اسّی ارب ڈالر کی مالیت کے معاہدوں پر دستخط کئے ہیں اس درمیان امریکا اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے ریاض میں اپنی مشترکہ پریس کانفرنس میں اپنی ساری توجہ ایرانوفوبیا اور اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف بے بنیاد اور تکراری الزامات عائد کرنے پر مرکوز رکھی۔
امریکا اور سعودی عرب کے درمیان دو سو اسّی ارب ڈالر مالیت کے ان معاہدوں پر ریاض میں امریکی صدر ٹرمپ اور سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز نے دستخط کئے-
دوسری جانب امریکی اور سعودی وزرائے خارجہ نے اپنی مشترکہ پریس کانفرنس ایرانوفوبیا اور ایران کے خلاف بیہودہ بے بنیاد اور تکراری الزامات عائد کرنے پر ہی مرکوز رکھی-
سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے اس پریس کانفرنس میں امریکی صدر کے دورہ سعودی عرب کو دونوں ملکوں کے تعلقات میں سنگ میل قرار دیا اور دعوی کیا کہ امریکا اور سعودی عرب کو علاقے میں ان کے بقول ایران کے جنگ پسندانہ اقدام کو روکنے کے لئے میدان عمل میں اترنا چاہئے-
امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن نے بھی اس پریس کانفرنس میں ریاض اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والے نئے فوجی معاہدوں کا ذکر کرتے ہوئے دعوی کیا کہ یہ فوجی معاہدے اسلامی جمہوریہ ایران کے اثر و رسوخ کو روکنے کے تحت سعودی عرب اور خلیج فارس کے عرب ملکوں کی سیکورٹی کو یقینی بنانے پر منتج ہوں گے-
وائٹ ہاؤس نے بھی اس بات کا اعلان کرتے ہوئے کہ ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب میں ہتھاروں کی فروخت سے متعلق جو سمجھوتے ہوئے ہیں وہ ایک سو دس ارب ڈالر کی مالیت کے ہیں، دعوی کیا کہ یہ فوجی معاہدے خلیج فارس میں دہشت گردی کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے ہیں-
وائٹ ہاؤس نے ایک ایسے وقت یہ دعوی کیا ہے کہ یہ فوجی معاہدے خلیج فارس کے عرب ملکوں کی سیکورٹی کے لئے ہیں، جب سعودی عرب کے ذریعے امریکا سے خریدے گئے ہتھیاروں کا ایک بڑا حصہ یمن پر سعودی عرب کے وحشیانہ حملوں اور اسی طرح عراق اور شام میں دہشت گرد گروہوں کو مسلح کرنے میں استعمال ہوتا ہے-
امریکا میں ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد واشنگٹن اور ریاض نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اور زیادہ مخاصمانہ پالیسیاں اختیار کر لی ہیں-
امریکی صدر ٹرمپ اپنے پہلے غیر ملکی دورے میں سب سے پہلے سعودی عرب پہنچے ہیں- اس کے بعد وہ اسرائیل کا دورہ کریں گے۔
سعودی عرب اور اسرائیل کے حکام نے ہمیشہ ٹرمپ کو ریاض اور تل ابیب کا زبردست حامی بتایا ہے- وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب کا مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کو الگ تھلگ کرنا ہے- وہ ایران، کہ جس نے علاقے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انتہائی اہم رول ادا کیا ہے۔