سعودی عرب اور قطر کے اختلافات طشت از بام
سعودی عرب اور قطر کے درمیان اختلافات روزبروز بڑھتے جا رہے ہیں اور سعودی ذرائع ابلاغ نے بھی قطر پر اپنی یلغار تیز کر دی ہے۔
سعودی عرب اور قطر کے درمیان مختلف مسائل پر اختلافات ایک عرصے سے جاری ہیں لیکن اب یہ اختلافات طشت از بام ہو رہے ہیں-
اس درمیان سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ نے قطر پر اپنی یلغار بھی تیز کر دی ہے- سعودی عرب کے ٹی وی چینل العربیہ نے قطر کے خلاف اپنی تشہیراتی مہم تیز کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کو امیر قطر کی جانب سے ٹیلی فون کئے جانے کے اقدام پر شدید حملہ کیا ہے-
گذشتہ ہفتے امریکی صدر ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب اور واشنگٹن اور ریاض کے درمیان ایک سو دس ارب ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کے سودے پر دستخط کے بعد قطر اور سعودی عرب کے اختلافات کھل کر سامنے آ گئے-
سعودی عرب کے ٹیلی ویژن چینل العربیہ نے کہا کہ قطر کے امیر نے خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ملکوں کے مشترکہ مفادات کو نظر انداز کر کے ایران کے صدر حسن روحانی کو حالیہ صدارتی الیکشن میں دوبارہ کامیاب ہونے پر صرف معمول کی مبارک باد پیش کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ دوحہ اور تہران کے تعلقات کو ہر دور سے زیادہ مستحکم بنانے پر زور بھی دیا-
العربیہ نے اپنی رپورٹ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں امیر قطر کی اس تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ تعاون ضروری ہے، کہا کہ قطر نے دو ہزار چھے میں بھی ایران کے ایٹمی معاملے پر سلامتی کونسل کی قرارداد پر ووٹنگ کے دوران ایران کے حق میں ووٹ دیا تھا-
العربیہ نے قطر پر سعودی عرب کی ایک اور ناراضگی کا ذکر کیا جو وہابیت کے بارے میں تھی- سعودی مفتی، نام نہاد سعودی پارلیمنٹ اور مذہبی امور کے سعودی وزیر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہابیت کے ساتھ قطرکے حکمراں خاندان کا کوئی نسبی رشتہ نہیں ہے اور اس سلسلے میں قطر کا دعوی بے بنیاد ہے-
واضح رہے کہ قطر کے سابق امیر حمد بن خلیفہ آل ثانی نے کئی سال قبل لیبیا کے معدوم صدر معمر قذافی سے ایک ٹیلی فونی گفتگو میں، کہ جس کی آڈیو فائل منظر عام پر بھی آگئی، دعوی کیا تھا کہ محمد بن عبدالوہاب ان کے سولہویں جد ہیں-
محمد بن عبدالوہاب نے سترہ سو بانوے میں سنی حنبلی مذہب میں ایک نئے نظریئے کی بنیاد ڈالی تھی جس کو بعد میں وہابیت کا نام دیا گیا اور سعودی عرب کے سنی علما نے اس کو خوب رواج دینے کی کوشش کی-
اس آڈیو فائل میں قطر اور لیبیا کے سابق سربراہوں نے مبینہ طور پر سعودی عرب کے خلاف اور بھی کچھ باتیں کی ہیں جن پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب، مصر، اردن اور متحدہ عرب امارات میں قطر کے ٹیلی ویژن چینل کی نشریات اور نیوز ویب سائٹیں بند کر دی گئیں اور سعودی ذرائع ابلاغ نے قطر کے خلاف بڑا محاذ کھول دیا۔