قطر کے خلاف سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی محاذآرائی
قطر کے ساتھ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کے ذریعے سفارتی تعلقات منقطع کرلئے جانے سے پیدا ہونےوالے بحران کو دس دن ہوگئے ہیں اور عالمی سطح پر اس بحران پر مختلف ردعمل سامنے آرہا ہے۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصرنے گذشتہ پانچ جون کو قطر کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات توڑ لئے ہیں۔ سعودی عرب کی قیادت میں ان ملکوں نے قطر کے ساتھ اپنے تعلقات اس بات کو بہانہ بناکر ختم کئے کہ قطر علاقے میں ان گروہوں کی حمایت کرتا ہے جو ایران کے زیر اثر ہیں اور دوسرے یہ کہ قطر عرب ملکوں کے موقف کا ساتھ نہیں دے رہا ہے۔
سعودی عرب نے قطر پر دباؤ ڈالنے کے لئے بعض عرب اور افریقی ملکوں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔
قطر نے بھی جیبوتی اور اریٹریا کے ذریعے سعودی عرب کے موقف کی حمایت کے اعلان کے بعد کہا ہے کہ وہ جیبوتی سے اپنی فوج نکال رہا ہے۔
کچھ عرب ملکوں کی طرف سے قطر کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کرلینے کے اقدام کے بعد واشنگٹن میں متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف العتیبہ نے بھی کہا ہے کہ امریکا کو چاہئے کہ وہ قطر میں اپنے فوجی اڈے ختم کردے کیونکہ یہ فوجی اڈے قطرکے خلاف کسی بھی طرح کی کارروائی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
امریکا میں متحدہ عرب امارات کے سفیر نے کہا کہ اگر اب تک قطر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں امریکی فوجی اڈے ہیں۔
قطر اور اس کے ہمسایہ ملکوں کے درمیان پیدا ہونےوالے بحران کے سلسلے میں امریکی انتظامیہ میں دوطرح کے نظریات پائے جاتے ہیں اسی وجہ سے امریکا بحران کے دونوں جانب ہے۔
اسی تناظر میں قطر میں امریکی سفیر اسمتھ ڈانا شیل نے استعفی دے دیا ہے۔ دوحہ میں امریکی سفیر نے یہ استعفی ایک ایسے وقت دیا ہے جب چند روز قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر کے خلاف انتہائی سخت بیان دیا تھا۔
اس درمیان دوحہ بدستور اپنے اس موقف پر قائم ہے کہ وہ بحران کوسیاسی طریقے سے حل کرنے کے لئے تیار ہے۔قطر کے وزیرخارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے ایک بار پھر کہا ہے کہ جن عرب ملکوں نے قطر کا محاصرہ کیا ہے انہیں چاہئےکہ وہ قطر پر عائد کئے گئے اپنے الزامات کو ثابت کریں۔
سعودی عرب اور اس کے ساتھی عرب ملکوں نے قطر پر دوسرے ملکوں کے داخلی امور میں مداخلت اور دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کیا ہے۔
قطری وزیرخارجہ نے کہا کہ اگر اختلافات خارجہ پالیسی کے بارے میں ہوں تو کسی کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی ایک آزاد اور خود مختار ملک پر مسلط کرے۔
قطر کے وزیرخارجہ نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ انہوں نے اب تک علاقے کے کسی بھی ایک ملک کے خلاف ایسی دشمنی کا مشاہدہ نہیں کیا تھا کہا کہ قطر اب بھی مسائل کو سفارتی طریقے سے ہی حل کرنے کو واحد طریقہ سمجھتا ہے۔