Jul ۰۶, ۲۰۱۷ ۱۴:۲۵ Asia/Tehran
  • قطر اور سعودی عرب کے اختلافات بدستور جاری

سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے قطر کے خلاف اپنے ملک کی مخاصمانہ پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے ایک بار پھر یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ جب تک دوحہ حکومت ہماری شرائط نہیں مان لیتی اس وقت تک پابندیاں نہیں اٹھائی جائیں گی۔ دوسری جانب کویت کے وزیر خارجہ نے قطر کے ساتھ پیدا ہونے والے اختلافات کو خلیج فارس تعاون کونسل کے ذریعے حل کیے جانے پر زور دیا ہے۔

کویت کے نائب وزیر خارجہ خالد جاراللہ نے لندن میں برطانیہ کے وزیر خارجہ بوریس جانس کے ساتھ ملاقات میں قطر اور بعض عرب ملکوں کے درمیان جاری اختلافات کو تشویشناک اور خلیج فارس تعاون کونسل کے لیے ایک زلزلہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس خطرناک بحران کے وسیع تر نتائج کو دیکھتے ہوئے معاملے کو خلیج فارس تعاون کونسل میں حل کیے جانے کی ضرورت ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ بوریس جانسن خلیج فارس تعاون کونسل میں پیدا ہونے والے اختلافات کا جائزہ لینے کی غرض سے عنقریب کویت کا دورہ کرنے والے ہیں۔
سعودی عرب اور اس کے بعض اتحادیوں، مصر، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے پانچ جون کو الگ الگ بیانات میں قطر کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات توڑنے کا اعلان کیا تھا۔
مذکورہ چاروں ممالک نے تئیس جون کو تیرہ مطالبات کی ایک فہرست بھی قطر کے حوالے کرتے ہوئے دوحہ کے ساتھ تعلقات کی بحالی کو اپنے مطالبات کی تکمیل کے ساتھ مشروط کیا تھا۔
سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے قطر کو جو مطالبات پیش کیے ہیں ان میں ایران اور حزب اللہ کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑنے، الجزیرہ ٹی وی چینل کو بند کرنے اور قطر میں قائم ترک فوجی اڈہ ختم کرنے کا مطالبہ سب سے اہم ہے۔
سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اپنے مطالبات کی تکمیل کے لیے قطر کو دس روز کی مہلت دی تھی جو گزشتہ اتوار کو ختم ہو گئی تھی اور کویت کی ثالثی کے نتیجے میں اس میں اڑتالیس گھنٹے کا اضافہ کیا گیا تھا اور یہ مدت بھی منگل کی رات ختم ہو گئی ہے۔
قطر کے وزیر خارجہ نے پیر کی شب سعودی عرب کے مطالبات کے بارے میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کا تحریری جواب کویت سٹی میں کویت کے امیر شیخ صباح الاحمد الجابر الصباح کے سپر کر دیا تھا۔
کویتی ذرائع کے مطابق قطر کے جوابی خط کو منگل کی شب سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات اور بحرین کو پہنچا دیا گیا۔
قطر کا بائیکاٹ کرنے والے ملکوں کے وزرائے خارجہ نے بھی بدھ کے روز اپنے اجلاس میں قطر کے جوابی خط کا جائزہ لیا ہے۔
مصر کے وزیر خارجہ سامح شکری نے اجلاس کے بعد کہا ہے کہ قطر نے عرب ملکوں کے تیرہ مطالبات کا منفی جواب دیا ہے۔
سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے اس موقع پر کہا کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک مناسب وقت پر قطر کے خلاف آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے قطر کے خلاف اپنے ملک کی مخاصمانہ پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے ایک بار پھر یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ جب تک دوحہ حکومت ہماری شرائط نہیں مان لیتی اس وقت تک پابندیاں نہیں اٹھائی جائیں گی۔