Jul ۲۷, ۲۰۱۷ ۱۴:۵۹ Asia/Tehran
  • ہمیں جیو پولیٹکل بدمعاشی کا سامنا ہے،قطری وزیر خارجہ

قطر کے وزیر خارجہ نے کہا کہ دوحہ پر پابندیاں لگانے والے ممالک اس کے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

قطر کے وزیر خارجہ عبدالرحمن آل ثانی نے روزنامہ واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو دیتے کہا کہ ان کا ملک اپنے ہمسایہ عرب ملکوں کی جیوپولیٹک بدمعاشی کا نشانہ بنے ہوا ہے۔ قطر، خلیج فارس کے جنوب میں واقع ہے اور اس کا کل رقبہ گیارہ ہزار پانچ سو چھیاسی مربع کلومیٹر ہے۔
دنیا میں قدرتی گیس کے تیسرے بڑے ذخائر اور مشرق وسطی کی دو بڑی طاقتوں سعودی عرب اور ایران کے پڑوس میں واقع ہونے کے باعث قطر انتہائی اہم جغرافیائی پوزیشن کا مالک ہے۔ متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت کے ساتھ قطر کی سمندری حدود بھی ملتی ہیں۔
اس اہم جغرافیائی پوزیشن کے سبب قطر کو دیگر خطرات کے علاوہ سعودی عرب کی جانب سے خاص دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا رہا ہے۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے قطر نے اپنی خارجہ پالیسی کو اپنی سیکورٹی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ جیوپولیٹکل خطرات کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا کیونکہ جغرافیائی صورتحال ثابت اور ناقابل تغیر رہتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب نے دوحہ کے خلاف جیوپولیٹکل دباؤ ڈالنے کی بھرپور کوشش کی ہے جو قطر کے ساتھ سعودی عرب اور اس کے اتحادی ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی کا سبب بن گئی۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے اپنی زمینی، سمندری اور فضائی سرحدیں بند کرکے قطر کو محصور اور الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی ہے جیسے قطر کے وزیر خارجہ عبدالرحمن آل ثانی نے جیوپولیٹکل بدمعاشی قرار دیا ہے۔
لیکن اہم بات یہ ہے کہ قطر کی جغرافیائی پوزیشن ہی اس کے محاصرے کی اسٹریٹیجی ناکام ہونے کا سبب بنی ہے۔ کیونکہ قطر کی اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مشترکہ سمندری سرحدیں ہیں اور وہ  پابندیوں اورمحاصرے کو ناکام بنانے کے لیے ایران کی سمندری اور فضائی حدود سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔
ایک اور بات یہ ہے کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی بدستور اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ قطر کی جیو پولیٹکل مشکلات کو اس کے خلاف دباؤ کے لیے استعمال کرتے رہیں۔