Jul ۳۱, ۲۰۱۷ ۱۴:۰۸ Asia/Tehran
  • قطر کا بائیکاٹ کرنے والے چار عرب ملکوں کا بیان

قطر کا بائیکاٹ کرنے والے چار عرب ملکوں کے وزرائے خارجہ نے کہا ہے کہ وہ قطر کے ساتھ اپنی شرائط پر ہی مذاکرات کے لئے تیار ہیں

سعودی عرب ، بحرین ، متحدہ عرب امارات اور مصر کے وزرائے خارجہ نے منامہ اجلاس کے بعد اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ قطر کے ساتھ صرف اپنی شرطوں کے مطابق ہی مذاکرات کریں گے - مذکورہ ملکوں نے گذشتہ پانچ جون کو قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے بعد قطر کا بائیکاٹ کردیا تھا - ان ملکوں نے قطر کے سامنے شرائط رکھی ہیں کہ وہ الجزیرہ ٹیلی ویژن نیٹ ورک بندکردے ، ایران اور حزب اللہ کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کردے اور قطر میں ترکی کے فوجی اڈے بندکردے لیکن دوحہ نے ان شرطوں کو مسترد کردیا ہے - سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ نے اپنے منامہ اجلاس کے بعد ایک بیان جاری کرکے اپنے سابقہ موقف پر زور دیا اور کہاکہ قطر کے خلاف پابندیاں جاری رہیں گی - ان ملکوں کا کہنا ہے کہ قطر کے سامنے جو مطالبات اور شرطیں رکھی گئی ہیں وہ بدستور میز پر ہیں اور اگر دوحہ اپنے موقف میں تبدیلی لاتاہے تو وہ اس کے ساتھ مذاکرات کے لئے تیار ہیں - سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیر نے بھی منامہ اجلاس کے بعد دعوی کیا کہ قطر کو چاہئے کہ وہ اپنی جارحانہ پالیسیوں کو ختم کرے اور اچھی ہمسائیگی کی پالیسیوں پر عمل کرے - اس درمیان کویت کے نائب وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک قطر اور چار عرب ملکوں کے درمیان ثالثی کے لئے تیار ہے - کویت کے نائب وزیرخارجہ خالد جار اللہ نے کہا کہ قطر کے بحران کو حل کرنے لئے امیرکویت کی کوششوں کی سبھی عرب ملکوں اور بین الاقوامی حلقوں نے حمایت کی ہے- کویت کے نائب وزیرخارجہ نے کہاکہ قطر کے بحران کے سبھی فریق امید بھری نظروں سے کویت کی ثالثی کی جانب دیکھ رہے ہیں - واضح رہے کہ امیر کویت اب تک کئی بار قطری اور سعودی حکام سے ملاقات کرچکے ہیں لیکن ان ملاقاتوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا ہے