Jul ۳۱, ۲۰۱۷ ۱۸:۵۴ Asia/Tehran
  • قطر نے دوحہ کا بائیکاٹ کرنے والے چار عرب ملکوں کی شرطوں کو مسترد کردیا

قطر نے دوحہ کا با‏ئیکاٹ کرنے والے چار عرب ملکوں کی شرطوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ شرطیں بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں

قطر کے وزیرخارجہ نے اپنے ایک بیان میں منامہ میں سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور مصر کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بیان اور ان ملکوں کی جانب سے دوحہ کے ساتھ مذاکرات کی شرطوں کو مسترد کردیا ہے - قطر کا بائیکاٹ کرنے والے چار عرب ملکوں نے منامہ میں ہونے والے اجلاس میں کہا ہے کہ وہ قطر کے سلسلے میں اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے بلکہ دوحہ کو چاہئے کہ وہ ان کے مطالبات اور شرطوں کو پورا کرے - ان ملکوں نے کہا ہے کہ وہ قطر کے ساتھ صرف اپنی شرطوں پر عمل درآمد کے طریقوں پر ہی بات کریں گے- قطر کے وزیرخارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے کہا ہے کہ قطر کا بائیکاٹ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے لیکن جن ملکوں نے قطر کا بائیکاٹ اور اس کا محاصرہ کیا ہے وہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہے ہیں اور بین الاقوامی قوانین کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں - قطر کے وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ منامہ اجلاس تضادات سے بھرا ہوا تھا اور اجلاس میں شریک چاروں عرب ملکوں کے وزرائے خارجہ کے بیانات اور موقف ایک جیسے نہیں تھے اور ان کے بیانات سے ظاہر ہورہا تھا کہ وہ ایک ساتھ ایک راستے پر نہیں چل رہے ہیں - انہوں نے کہا کہ قطر نے حج کو بین الاقوامی مسئلہ بنانے کے لئےکوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اور اس نے حج کو کبھی بھی سیاسی مسئلہ بنانے کی کوشش نہیں کی لیکن افسوس کہ سعودی عرب نے حج کو سیاسی مسئلہ بنا دیا ہے- یہ ایسی حالت میں ہے کہ قطر کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے مذہبی اور دینی آزادیوں کے امور میں اقوام متحدہ کے رپورٹر کے نام ایک خط ارسال کرکے فریضہ حج کو سیاسی رنگ دینے کے سعودی اقدامات کی شکایت کی ہے - قطر کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے فریضہ حج کی ادائیگی کے سلسلے میں سعودی عرب کے رویّے کو سبھی بین الاقوامی کنونشنوں اور معاہدوں کے منافی قراردیا ہے - اس خط میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب نے قطر کا بائیکاٹ کرنے کے بعد سے قطری شہریوں کو فریضہ حج اور عمرہ کی ادائیگی سے روک دیا ہے -