Sep ۲۶, ۲۰۱۷ ۱۳:۵۸ Asia/Tehran
  • جامع ایٹمی معاہدہ بدترین، امریکی مشیر قومی سلامتی

وائٹ ہاؤس کے مشیر برائے قومی سلامتی نے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر کے اس نظریئے سے اتفاق کرتے ہیں کہ جامع ایٹمی معاہدہ ایک بدترین معاہدہ ہے۔دوسری جانب برطانیہ، فرانس، جرمنی اور امریکہ میں یورپی یونین کے نمائندے نے ایک بار پھر جامع ایٹمی معاہدے کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

قومی سلامتی کے امریکی مشیر مک ماسٹر نے دعوی کیا ہے کہ جامع ایٹمی معاہدے سے صرف ایران کے مفادات ہی پوری ہوتے ہیں۔ امریکی حکام نے کچھ عرصے سے جامع ایٹمی معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے نیا ڈرامہ رچانہ شروع کردیا ہے۔ امریکی حکام جامع ایٹمی معاہدے کو سبوتاژ کرنے یا کم سے کم اس میں من پسند ترامیم کرانے کی غرض سے یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ اس معاہدے سے صرف ایران کے مفادات پورے ہوتے ہیں۔
دوسری جانب امریکہ میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے سفیروں نیز یورپی یونین کے نمائندے نے ایک بار پھر جامع ایٹمی معاہدے کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
امریکہ میں یورپی یونین کے نمائندے ڈیوڈ اوسلیوان نے ایک امریکی تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جامع ایٹمی معاہدے کو توڑنے کے سنگین تنائج برآمد ہوں گے۔
امریکہ میں جرمنی کے سفیر پیٹر وٹنگ نے بھی اپنے خطاب میں یہ بات زور دے کر کہی کہ اگر مغرب نے اس عالمی معاہدے کو توڑا تو اس کی عالمی ساکھ ختم ہوکے رہ جائے گی۔
واشنگٹن میں برطانیہ کے سفیر کم ڈیروچ نے اس موقع پر کہا کہ لندن نے بارہا اور خاص طور پر وزیر اعظم تھریسا مئے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان حالیہ ملاقات میں بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ برطانیہ جامع ایٹمی معاہدے میں باقی رہنا چاہتا ہے۔
امریکی تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے فرانس کے سفیر جرارڈ آراڈ نے بھی یہ بات زور دے کر کہی کہ پیرس جامع ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کے حق میں ہے۔
یورپی یونین کے امور خارجہ کی انچارج فیڈریکا موگرینی نے بھی اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ جامع ایٹمی معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے اور اس میں کوئی تبدیل نہیں آسکتی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جامع ایٹمی معاہدے کے دیگر فریقوں کے برخلاف اس معاہدے کو وحشتناک قرار دیتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم دنیا امریکی صدر کے مخاصمانہ موقف سے اتفاق نہیں کرتی۔