سعودی عرب اور کینیڈا کے درمیان سفارتی تلوار کھینچ گئی
سعودی عرب نے کینیڈین وزیرخارجہ کے اس بیان کے بعد کہ سعودی حکومت صنفی امتیاز کے خلاف مہم چلانے والے سرگرم کارکنوں کو جن میں خواتین بھی شامل ہیں رہا کر دے ریاض میں کینیڈا کے سفیر کو ملک سے نکل جانے کا حکم دے دیا ہے۔
سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے ریاض میں کینیڈا کے سفیر کو ناپسندیدہ عنصر قراردیتے ہوئے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر ملک سے چلے جانے کو کہہ دیا ہے جبکہ کینیڈا سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔
سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کینیڈا کے ساتھ تمام تجارتی اور سرمایہ کاری کے امور معطل کردئے گئے ہیں۔
سعودی حکومت نے جیل میں قید اسیر بلاگر رائف بدوی کی بہن ثمر بدوی اور ایک دیگر سرگرم خاتون نسیمہ السادہ کو گذشتہ منگل کو گرفتار کرلیا تھا۔ ثمر بدوی اور نسیمہ السادہ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی خاتون ہیں۔
کینیڈا کے سفارتخانے اور کینیڈین وزیرخارجہ نے ان سماجی کارکنوں کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔
گذشتہ ہفتے ہیومن رائٹس واچ نے بھی سعودی حکام کے ہاتھوں خواتین کے حقوق کے لئے مہم چلانے والی سرگرم کارکن ثمر بدوی اور نسیمہ السادہ کی گرفتاری پر سخت تشویش کا اظہار کیا تھا۔
سعودی عرب میں رواں سال مئی کے مہینے سے اب تک آل سعود حکومت کی متعصبانہ اور تنگ نظرانہ پالیسیوں پر تنقید کرنے والے سترہ سماجی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے جن میں متعدد افراد ایسے ہیں جن کے بارے میں کسی کو کوئی خبر نہیں کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی سعودی عرب میں آزادی اظہار رائے کو کچلنے،سیاسی اور سماجی کارکنوں کو پھانسی دینے اور انسانی حقوق کی مہم چلانے والوں کو گرفتار کرنے پر بارہا سعودی حکومت پر تنقید کی ہے۔ اس وقت سعودی جیلوں میں تیس ہزار سیاسی و سماجی کارکن بند ہیں۔