ہند۔امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج، کسانوں اور تاجروں کے مفادات پر خدشات
ہندوستان میں حزب اختلاف کے اراکین نے ہند -امریکہ تجارتی معاہدہ کو ملک کے کسانوں اور تاجروں پر براہ راست حملہ قرار دیتے ہوئے پارلیمنٹ کے احاطے میں زبردست احتجاج کیا
سحرنیوز/ہندوستان: پارلمینٹ کے احاطے میں امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کے خلاف احتجاج کے دوران اپوزیشن کے اراکین نے اپنے ہاتھوں میں بینرز اٹھا رکھے تھے جس میں معاہدے کو ٹریپ ڈیل بتایا گیا۔
اس کےساتھ ہی چینی ٹینکوں کی دراندازی کے وقت کوئی فیصلہ لینے کے بجائے "جو اُچت سمجھو وہ کرو " یعنی جو مناسب سمجھو وہ کرو کہہ کر ذمہ داری فوجی سربراہ کے سر پر ڈالنے کے معاملے میں بھی راہل گاندھی سمیت اپوزیشن کے اراکین نے پارلیمنٹ کے احاطے میں وزیراعظم مودی کو نشانہ بنایا اور "جو اُچت سمجھو وہ کرو " کے نعرے لگائے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
اس سے قبل لوک سبھا کو پہلے دوپہر تک کیلئے ملتوی کیا گیا لیکن جب دوپہر کو ایوان کو دوبارہ طلب کیا گیا تو اپوزیشن نے خاموشی اختیار کرنے سے انکارکردیا جس کے بعد ایوان کی کارروائی پیر تک ملتوی کر دی گئی۔
دریں اثناء کانگریس نے وزیر اعظم مودی کے ذریعہ لوک سبھا میں صدر جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کا جواب دینے سے گریز کرنے پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔
پارٹی نے اس کو ایوان کے طریقۂ کار کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کے بارے میں اسپیکر اوم برلا کو خط لکھا۔