Oct ۲۵, ۲۰۱۸ ۲۰:۰۵ Asia/Tehran
  • سعودی عرب کو خاشقجی قتل کا جواب دینا ہو گا، برطانیہ

برطانیہ کی وزیر اعظم نے سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے گفتگو میں کہا ہے کہ مخالف صحافی جمال خاشقجی کے قتل کےبارے میں ریاض کو جواب دینا ہو گا۔

برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسا مئے نے بدھ کو سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے ترکی کے شہر استنبول میں سعودی عرب کے قونصل خانے میں مخالف صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی واردات پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قتل کے بارے میں سعودی عرب کی جانب سے جو صفائی پیش کی گئی ہے وہ تسلی بخش نہیں ہے اور مکمل طور پر صحیح صحیح بات اور تفصیلات بتائے جانے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے اسی طرح اپنے ملک کی پارلیمنٹ میں سعودی عرب کے لئے اسلحے کی فروخت کے بارے میں اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ سعودی عرب کے لئے ہتھیاروں کی برآمدات کا مسئلہ زیرغور ہے، دعوی کیا کہ برطانیہ کے فوجی سازوسامان کی برآمدات کو مکمل طور پر کنٹرول کیا جاتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ برطانیہ خاص طور سے یمن جنگ میں سعودی عرب کی بھرپور حمایت کرنے والے ملکوں میں شمار ہوتا ہے اور اس وقت وہ مخالف صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے سلسلے میں سعودی عرب کے خلاف موقف اختیار کرنے پر رائے عامہ کے شدید دباؤ میں ہے۔

دریں اثنا قصر الیزا نے بھی بدھ کی رات ایک بیان میں فرانس کے صدر امانوئل میکرون کی جانب سے مخالف صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں سعودی عرب کے شاہ سلمان سے ٹیلیفونی گفتگو کئے جانے کی خبر دی ہے۔

بیان کے مطابق اس گفتگو میں فرانس کے صدر امانوئل میکرون نے تاکید کی ہے کہ پیرس، اپنے شرکا کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ مخالف صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ داروں کے خلاف تادیبی اقدامات کرے گا۔

فرانس کے صدر نے خاشقجی کے قتل پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس قتل کی تمام تفصیلات اور جزئیات سامنے لائے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔

اس سے قبل فرانس کی حکومت نے تاکید کی تھی کہ مخالف صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں سعودی عرب کے خلاف اگر الزام ثابت ہو جاتا ہے تو ان کا ملک سعودی عرب کے خلاف نہ صرف ہتھیاروں بلکہ دیگر چیزوں کی بھی پابندی عائد کرے گا۔

جرمنی سے موصولہ خبروں سے بھی پتہ چلتا ہے کہ اس ملک کے بیشتر شہری، سعودی عرب کے ساتھ جرمن کمپنیوں کے تجارتی تعلقات کے خلاف ہیں۔

اخبار دی وولٹ نے اس سلسلے میں سیوی ادارے کے سروے نتائج کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جرمنی کے پینسٹھ فیصد عوام، اس بات کے خواہاں ہیں کہ جرمن کمپنیوں کو بنیادی طور پر سعودی عرب کے ساتھ کسی بھی طرح کی کوئی تجارت نہیں کرنا چاہئے۔