Oct ۲۷, ۲۰۱۸ ۱۶:۴۸ Asia/Tehran
  •  عرب ملکوں کی غداری کے درمیان غزہ کے فلسطینیوں کا واپسی مارچ

فلسطینی کاز سے عرب ملکوں کی غداری کے درمیان غزہ کے فلسطینی باشندوں نے اکتیسویں ہفتے بھی مقبوضہ فلسطین کی سرحدوں کی جانب مارچ کیا اور انتفاضہ قدس جاری رکھنے کے حق میں نعرے لگائے۔

فلسطین کی وزارت صحت کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اکتیسویں واپسی مارچ میں شریک نہتے فلسطینیوں پر صیہونی فوجیوں نے ایک بار پھر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں کم سے کم پانچ فلسطینی شہید اور ایک سو ستر سے زائد زخمی ہوگئے۔رواں سال تیس مارچ سے یوم الارض کے موقع پر شروع ہونے فلسطینیوں کے حق واپسی مارچ کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور فلسطین کے عوام ہر جمعے کو غزہ سے ملنے والی مقبوضہ فلسطینی سرحدوں کی جانب مارچ کرتے ہیں۔تیس مارچ دو ہزار اٹھارہ سے جاری فلسطینیوں کے حق واپسی مارچ پر صیہونی فوجیوں کی فائرنگ کے نتیجے میں اب تک دو سو سے زائد فلسطینی شہید اور بائیس ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔اس مارچ کا مقصد امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی اور سات سال سے جاری غزہ کے ظالمانہ محاصرے کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ اسرائیلی طیاروں نے جمعے اور ہفتے کی درمیانی رات ایک بار پھر غزہ میں مختلف اہداف کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ صیہونی حکومت کے لڑاکا طیاروں نے غزہ پٹی کے علاقوں بیت لاھیا اور خان یونس میں مختلف مقامات پر حملے کیے ہیں۔اسرائیل کے ڈرون طیاروں نے مشرقی غزہ کے علاقے میں کرم ابوسالم پاس کے قریب فلسطینیوں کی زرعی اراضی کو نشانہ بنایا ہے۔تاحال اسرائیل کے فضائی حملوں میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔صیہونی فوج نے گزشتہ سال دسمبر میں غزہ پر فضائی حملوں کا نیا سلسلہ شروع کیا تھا جو تاحال جاری ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔اسرائیل نے سن دوہزار چھے سے غزہ کا محاصرہ بھی کر رکھا ہے جس کے نتیجے میں یہ علاقہ ایک بڑی جیل میں تبدیل ہوگیا ہے اور یہاں رہنے والے پندرہ لاکھ فلسطینیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔