یمنی فوج کی غیر معمولی کارروائی، دسیوں سعودی فوجی ہلاک
یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے سعودی عرب کے جنوب میں گھات لگا کر متعدد سعودی فوجیوں اور ان کے اتحادی فوجی اہلکاروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
المسیرہ ٹیلی ویژن چینل نے خبر دی ہے کہ یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے سعودی عرب کے وحشیانہ حملوں کے جواب میں سعودی عرب کے جنوبی صوبے جیزان میں القیس پہاڑیوں کے اطراف میں گھات لگا کر انجام دی گئی ایک غیرمعمولی کارروائی میں سعودی عرب اور اس کے اتحادی ملکوں کے دسیوں فوجیوں کو ہلاک کر دیا-
یمنی فوج کے توپخانے نے بھی سعودی صوبے عسیر کے علاقے علب میں سعودی فوجی ٹھکانے پر حملہ کیا-
یمنی فوج نے جیزان میں ہی سعودی فوج کے ایک ٹھکانے پر زلزال میزائل سے حملہ کیا۔ اس سے پہلے جمعے کی شام بھی یمنی فوج نے نجران میں سعودی عرب کے فوجی ٹھکانے پر میزائل سے حملہ کیا تھا-
یمنی فوج کی طرف سے میزائلی حملے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے ذریعے الحدیدہ میں فائربندی کی مسلسل خلاف ورزی کے جواب میں کئے جا رہے ہیں-
یمنی گروہوں نے تیرہ دسمبر کو سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں مغربی صوبے الحدیدہ میں فائربندی پر اتفاق کیا تھا لیکن سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی رکھی-
یمنی فوج کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے اب تک تین ہزار چار سو بار الحدیدہ شہر میں فائربندی کی خلاف ورزی کی-
گذشتہ اٹھارہ دسمبر سے فائربندی نافذ ہے اور یمنی فوج نے اب تک اس کی مکمل پاسداری کی ہے-
یمن کی مغربی بندرگاہ الحدیدہ وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے یمن کے محصور اور مظلوم عوام کو بین الاقوامی انسان دوستانہ امداد پہنچائی جا رہی ہے-
یمن میں جنگ کو ختم کرانے کے لئے اب تک کئی بار کوششیں ہو چکی ہیں لیکن سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے امن کی کوشش ہر بار ناکام ثابت ہوئی ہے-
سعود ی عرب اور اس کے اتحادیوں نے مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن پر اپنے وحشیانہ حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جن میں اب تک دسیوں ہزار یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ یمنی باشندے بے گھر ہو چکے ہیں-
ان حملوں کی وجہ سے یمن کی بنیادی شہری تنصیبات پوری طرح تباہ ہو چکی ہیں-