تیونس میں عرب لیگ کا سربراہی اجلاس
تیونس کی میزبانی میں عرب لیگ کا سربراہی اجلاس ایک ایسے وقت منعقد ہوا جب عرب دنیا کے آدھے ملکوں کے سربراہان مملکت اس میں غیر حاضر تھے۔
سوڈان کے صدر عمرالبشیر، الجزائر کے صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ، عمان کے سلطان قابوس، بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسی آل خلیفہ، مراکش کے بادشاہ محمد ششم، متحدہ عرب امارات کے سربراہ خلیفہ بن زاید اور شام کے صدر بشار اسد تیونس کے عرب لیگ سربراہی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے اور امیر قطر بھی تقریر کئے بغیر اجلاس بیچ میں ہی ترک کر کے واپس دوحہ روانہ ہو گئے-
سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہ جن کے ملک نے عرب لیگ کی صدارت تیونس کے حوالے کی، اپنی تقریر میں کہا کہ ہم شام کے بحران کے سیاسی حل کی اہمیت پر زور دیتے ہیں- سعودی بادشاہ نے اپنی تقریر میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف بے بنیاد دعوؤں کی تکرار کرتے ہوئے دعوی کیا کہ ایران کی مخاصمانہ پالیسیاں بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہیں- شاہ سلمان نے یہ بھی دعوی کیا کہ مسئلہ فلسطین، سعودی عرب کی ترجیحات میں ہے-
شاہ سلمان نے کہ جن کا ملک پچھلے کئی برسوں سے ان ہی کے حکم پر یمن کے نہتے شہریوں پر بم برسا رہا ہے اور اتحادی ملکوں کے فوجیوں کے ساتھ مل کر یمنی شہریوں کا قتل عام کر رہا ہے، دعوی کیا کہ وہ یمن میں سیاسی حل کے لئے اقوام متحدہ کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں-
یہ ایسی حالت میں ہے کہ سعودی عرب نے پچھلے چار برسوں کے دوران دسیوں ہزار یمنی شہریوں کو کہ جن میں بڑی تعداد خواتین اوربچوں کی ہے شہید کیا اور یمن کا محاصرہ کر کے اس مسلمان ملک کو قحط و بھوک مری سے دوچار کر دیا ہے-
دوسری جانب کویت کے امیر نے تیونس عرب سربراہی اجلاس میں یمن کے عوام کے مصائب و مشکلات کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جو گذشتہ چار برسوں سے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی وحشیانہ جارحیتوں کی وجہ سے تحمل کر رہے ہیں- امیر کویت شیخ صباح الاحمد الصباح نے کہا کہ یمن کا سیاسی حل تلاش کر کے اس ملک کے عوام کے مصائب و مشکلات کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔