Feb ۱۵, ۲۰۲۶ ۲۱:۲۹ Asia/Tehran
  • یورپی یونین ایران کی پیش رفت کو سمجھنے سے قاصر ہے : سید عباس عراقچی

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے میونیخ سیکورٹی کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے یورپی یونین کو " بوکھلاہٹ کا شکار" اور ایران میں ہونے والی پیش رفت کو سمجھنے سے قاصر قرار دیا ہے۔

سحرنیوز/ایران:    اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر اپنے ایک پیغام میں لکھا ہے کہ یہ افسوسناک امر ہے کہ میونخ سیکورٹی کانفرنس کہ جسے عام طور پر ایک سنجیدہ اور معتبر اجلاس سمجھا جاتا تھا، ایران کے مسئلے پر "میونخ سرکس" میں تبدیل ہو گیا ۔

انہوں نے کہا کہ اس صورت حال کا عملی طور پر یہ مطلب ہےکہ ایران کے جوہری پروگرام پر جاری مذاکرات سے متعلق پیش رفت میں یورپی یونین اور یورپی ٹرائیکا کا بے دست وپا اور بے وقعت ہونا واضح طور پر نظر آتا ہے۔

عراقچی نے تاکید کی کہ یورپ جو کبھی مذاکرات کے اہم فریقوں میں سے ایک تھا، اب اس کا مذاکرات میں کوئی گذر نہيں ہے کیوں کہ خطے میں ہمارے دوست ممالک، اس ناتواں اور کنارے لگائے گئے یورپی ٹرائیکا سے کہیں زیادہ مؤثر اور مفید طور پر کام کر رہے ہیں۔

ہمیں فالو کریں:  

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

دوسری جانب میونخ سیکیورٹی کانفرنس کے دوران شہر کے وسط میں ہزاروں افراد نے یوکرین کو ہتھیار بھیجنے کے خلاف اور تنازعے کے پرامن حل کے حق میں احتجاج کیا۔

 

تاس نیوز ایجنسی کے مطابق، یوکرین کو ہتھیار بھیجنے کے خلاف اور تنازع کے پرامن حل کی حمایت میں مظاہرے آج میونخ کے مرکز میں شروع ہوئے۔ ایک ریلی اوڈیون پلاٹز میں جاری ہے، اور ایک اس کے بعد کارلس پلاٹز میں بھی ریلی کا اہتمام کیا جا رہا ہے-

مظاہرے کے شرکاء نے اپنے ہاتھوں میں امن کے کبوتر کی علامت والے پرچم اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر نعرے درج تھے کہ "ہمارے پاس جنگ کے لیے پیسے ہیں، لیکن ہم اپنے ہی ملک میں غریبوں کو کھانا نہیں کھلا سکتے "ایسی پاگل پن والی پالیسی نہيں درکار " اور "اگر معاملات بہت آگے نکل گئے تو وہ آپ کے بچوں کو جنگ میں بھیجیں گے، نہ کہ اپنے ۔

اوڈیون پلاٹز میں خیمے لگائے گئے ہیں جہاں شرکاء جنگ مخالف نعروں والی ٹی شرٹس اور دیگر اشیاء خرید سکتے ہیں۔ اس احتجاج کا انعقاد "آؤ امن قائم کریں، میونخ وار کانفرنس نا منظور" کے نعرے کے تحت کیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ تقریباً ایک لاکھ لوگ میونخ کے ان مظاہروں میں شرکت کریں گے۔

باسٹھویں میونخ سیکیورٹی کانفرنس تیرہ فروری کو جرمنی میں شروع ہوئی، جو یوکرین کی جنگ، ٹرانس اٹلانٹک کے تعلقات میں بحران اور یورپ کی دفاعی صلاحیتوں پر مرکوز ہے-

کانفرنس میں اپنی افتتاحی تقریر میں جرمن چانسلر فریڈرک مرٹس نے کہا کہ پرانا ورلڈ آرڈر اب باقی نہیں رہا اور برلن یورپی براعظم میں مضبوط ترین فوج بنانے کے لیے کوشاں ہے۔

 

میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں اپنی تقریر میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے یورپ کے زوال کے بارے میں بیانات کو مسترد کرتے ہوئے غلط معلومات اور سوشل میڈیا کی انتہا پسندی کے مقابلے کا دفاع کیا جو مغربی جمہوریتوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب ایک مضبوط یورپ کا وقت ہے۔ یورپ کو جغرافیائی سیاسی طاقت بننا سیکھنا چاہیے۔

چیک صدر پیٹر پاول نے میونخ سیکیورٹی کانفرنس کے موقع پر اناتولی نیوز ایجنسی کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ امریکہ کا نیٹو کے دفاعی شعبے میں اہم کردار ہے۔ اگر امریکہ اپنی موجودگی اور صلاحیتوں کے ساتھ نکل جاتا ہے تو یورپ اس خلا کو پر نہیں کر سکے گا۔

 

ٹیگس