جنوبی سعودی عرب پر یمنی فوج کے جوابی حملے
یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے یمن پر سعودی اتحاد کی جارحیت کے جواب میں جنوبی سعودی عرب میں سعودی فوجی ٹھکانوں پر میزائل حملے کئے ہیں۔
یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ یمن پر سعودی اتحاد کی جارحیت کے جواب میں جنوبی سعودی عرب میں سعودی فوجی ٹھکانوں پر زلزال ایک قسم کے پانچ میزائل فائر کئے گئے۔یہ میزائل جنوبی سعودی عرب کے صوبے عسیر میں علب گذرگاہ میں سعودی فوجی ٹھکانوں پرفائر کئے گئے۔جنوبی سعودی عرب کے صوبے جیزان میں واقع جبل النار میں بھی سعودی فوجی ٹھکانوں پر زلزال ایک قسم کے دو میزائل داغے گئے۔یمنی فوج کا کہنا ہے کہ سعودی فوجی ٹھکانوں پر یمنی فوج کی جانب سے کئے جانے والے حملوں میں خاصا جانی و مالی نقصان ہوا۔یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی جانب سے سعودی اتحاد کی جارحیت کا بھوپور جواب دیئے جانے کا سلسلہ جاری ہے اور جنوبی سعودی عرب میں فوجی ٹھکانوں پر روزانہ ہی جوابی حملے کئے جا رہے ہیں۔دریں اثنا یمن کی شہری ترقی و تعمیر کی وزارت نے اعلان کیا ہے کہ سعودی اتحاد کی جارحیتوں میں یمن کے پانچ ہزار کلومیٹر سڑکیں اور راستے تباہ ہو چکے ہیں اور اس کے نتیجے میں یمن کو اب تک تین ارب، دو سو اکیانوے ملین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔سعودی اتحاد نے یمن پر جارحیت کے آغاز سے ہی پلوں اور راستوں کو شدید طریقے سے نشانہ بنایا تاکہ شہروں اور قصبوں و دیہاتوں کا ایک دوسرے سے رابطہ مکمل طور پر منطقع کیا جا سکے۔سعودی عرب نے امریکا، متحدہ عرب امارات اور چند دیگر ملکوں کے ساتھ مل کر مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ حملے شروع کر رکھے ہیں جن میں اب تک سولہ ہزار سے زائد بے گناہ یمنی شہری شہید اور دسیوں ہزار دیگر زخمی ہوئے ہیں نیز لاکھوں بے گھر ہوئے ہیں جبکہ سعودی اتحاد کے وحشیانہ حملوں میں یمن کی بیشتر بنیادی شہری تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں اور محاصرے کی وجہ سے دسیوں لاکھ یمنی شہریوں کو قحط بھوک مری اور طرح طرح کے وبائی امراض کا سامنا ہے-