عمان ؛ ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے آج کے بالواسطہ مذاکرات اپنےاختتام کو پہنچ گئے
عمان میں ہونے والے ایران امریکہ بالواسطہ مذاکرات آج اپنے اختتام کو پہنچ گئے ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے مذاکرات کو اچھے آغاز سے تعبیر کیا ہے، ایران کے جوہری معاملے پر یہ مذاکرات عمان کے تعاون سے بالواسطہ طور پر انجام پائے۔ ان مذاکرات کے سلسلے میں عالمی ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے۔
سحرنیوز/ایران: ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے آج جوہری معاملے پر عمان میں ہوئے تہران واشنگٹن مذاکرات کے بعد کہا کہ اچھی شروعات تھی، ہمیں جو باتیں کہنا تھیں وہ عمانی فریق کے ذریعے امریکیوں تک منتقل کر دی گئی ہیں اور امریکی باتوں کو بھی ہم نے سنا ہے۔ وزیر خارجہ ایران نے کہا کہ مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے تاہم ابھی اس کا وقت معین نہیں ہوا ہے۔ ایران امریکہ مذاکرات پر آج وسیع عالمی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت ہم ایسے مرحلے سے گزر رہے ہیں کہ بارہ روزہ جنگ کے بعد پیدا ہونے والی بے اعتمادی مذاکرات کی راہ میں ایک چیلنج ہے، عباس عراقچی نے کہا کہ آٹھ بڑے پرطلاطم مہینوں کے بعد ان مذاکرات کا آغاز ہوا ہے۔ وزیر خارجہ ایران نے قومی نیوز چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی کچھ بھی حتمی بات کرنا قبل وقت ہوگا، لیکن اگر مذاکرات کا سلسلہ اسی شکل میں آگے بڑھا تو ایک مورد اتفاق فریم ورک تک پہنچا جا سکتا ہے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
آج کے مذاکرات کے اختتام پر ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک ایکس پوسٹ میں لکھا کہ مسقط میں ایران امریکہ مذاکرات آج فریقین کی جانب سے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کے ساتھ ختم ہوئے ہیں۔ دونوں فریق اپنے اپنے دارالحکومت لوٹ کر بعد کے مذاکرات کے بارے میں صلاح مشورے کے بعد فیصلہ کریں گے۔عمان میں ہونے والے ایران امریکہ مذاکرات پر عالمی ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے۔
چین کے ترجمان وزارت خارجہ لین جیان نے ایک پریس کانفرنس میں ایران امریکہ جوہری مذاکرات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ چین ہمیشہ ان مسائل پر تمام فریقوں کے ساتھ رابطے میں رہا ہے اور ہمیں امید ہے کہ دونوں فریق بات چیت کے ذریعے اپنے اختلافات حل کریں گے اور خطے کے امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔
یورپی یونین کی ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ سفارت کاری اور مذاکرات ہی ایران کے جوہری مسئلے کا پائیدار حل تلاش کرنے کا واحد راستہ ہے۔ "انیتا ہیپر" نے کہا کہ ہم بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل جیسے عالمی فورمز کو یہ پیغام پہنچا رہے ہیں کہ یورپی یونین اب بھی یقین رکھتی ہے کہ سفارت کاری اور مذاکرات ہی ایران کے جوہری مسئلے کا پائیدار حل تلاش کرنے کا واحد راستہ ہیں۔
سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ ریاض کو امید ہے کہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان بحران کو سفارتی ذرائع سے اس طرح حل کیا جائے گا جس سے علاقائی استحکام اور امن کو فروغ ملے گا۔
مصری وزارت خارجہ نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے جوہری مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور اس سے نمٹنے کا واحد راستہ بات چیت اور مذاکرات ہی ہیں جن میں فریقین اور علاقے کی مفاد کو مدنظر رکھیں۔
آذربائیجان کے صدر نے بھی ایران کے وزیر دفاع سے ملاقات میں علاقے کی سلامتی کی صورتحال کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ وہ دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کے دائرے میں کسی بھی خطرے کو اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے پیدا نہیں ہونے دیں گے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان، ترکیہ، قطر اور روس سمیت مختلف ممالک ایران امریکہ تنازعے کے پر امن اور سفارتی حل پر زور دے چکے ہیں۔