May ۰۷, ۲۰۱۹ ۱۸:۳۷ Asia/Tehran
  • لیبیا میں سعودی عرب کی مداخلت پر اس ملک کے حکام و عوام کا احتجاج

لیبیا کے حکام کی ہمراہی کرتے ہوئے اس ملک کے ہزاروں لوگوں نے دارالحکومت طرابلس میں سعودی عرب کے سفارت خانے کے سامنے اجتماع کر کے اپنے ملک کے اندرونی امور میں ریاض اور ابوظہبی کی مداخلت پر شدید احتجاج کیا۔

لیبیا کے عوام نے دارالحکومت طرابلس میں سعودی عرب کے سفارت خانے کے سامنے جمع ہو کر نیشنل آرمی سے موسوم فوج کے کمانڈر خلیفہ حفتر کے لئے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی حمایت کی مذمت کی اور علاقے میں ان دونوں ملکوں کی پالیسیوں کے خلاف شدید احتجاج کیا۔

مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد بن سلمان اور اسی طرح متحدہ عرب امارات کے ولیعہد بن زائد کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور ان تصاویر پر کٹ کی علامت بنی ہوئی تھی جو مخالفت اور نفرت و بیزاری کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ مظاہرین نے لیبیا کی قانونی حکومت کی بھرپور حمایت کا بھی اعلان کیا۔ عالمی برادری بھی لیبیا کی قانونی حکومت کی حمایت کرتی ہے۔

لیبیا کی قانونی حکومت کے سربراہ فائز السراج نے بھی مصر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے مخالفین کے کمانڈر خلیفہ حفتر کی حمایت کئے جانے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک بدستور مخالفین کی حمایت کر رہے ہیں اور وہ ان تینوں ملکوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے مواقف پر نظرثانی اور لیبیا کی قوم کے سلسلے میں خردمندی سے کام لیں۔

انھوں نے ان تینوں ملکوں خاص طور سے سعودی عرب کے حکام سے مطلبہ کیا کہ وہ خلیفہ حفتر کی حمایت کرنے سے باز آجائیں۔

فائز السراج نے ایک بار پھر تاکید کی کہ دارالحکومت طرابلس کے اطراف سے مخالف فوج کی واپسی سے پہلے کسی بھی قسم کی فائر بندی کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔

لیبیا کی قانونی حکومت کے سربراہ نے ایسی حالت میں یہ تاکید کی ہے کہ لیبیا کے امور میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندے غسان سلامہ نے لیبیا میں انسان دوستانہ اقدام کے تحت ایک ہفتے کی فائر بندی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

انھوں نے تاکید کی ہے کہ جنگ بندی کے دوران تمام فریق امداد کے ضرورتمندوں کو امداد پہنچائے جانے میں نہ صرف کہ کوئی رکاوٹ پیدا نہ کریں بلکہ امداد کے عمل میں تعاون بھی کریں۔

اس کے باوجود نیشنل آرمی سے موسوم فوج کے کمانڈر جنرل خلیفہ حفتر نے رمضان مبارک میں جنگ بند کرنے اور دارالحکومت طرابلس پر حملہ نہ کرنے کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی درخواست کو مسترد کر دیا۔

دریں اثنا لیبیا میں جاری جھڑپوں کے پیش نظر عالمی ادارہ صحت نے ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ ان جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد چار سو بتّیس ہو گئی ہے۔

اس عالمی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ دارالحکومت طرابلس اور اس کے اطراف کے علاقوں میں تشدد کے آغاز سے اب تک دو ہزار انہتر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔