Jul ۲۲, ۲۰۱۹ ۱۹:۱۶ Asia/Tehran
  • امریکی فوجیوں کو سعودی عرب بلانے کی وجوہات

سعودی عرب کے شاہ سلمان نے سرزمین وحی پر ایک بار پھر امریکی فوجیں تعینات کرنے کی منظوری دے دی۔

سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی  کی رپورٹ کے مطابق شاہ سلمان نے امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کو فروغ دینے کی غرض سے ملک میں امریکی فوج تعینات کرنے کا فرمان جاری کیا ہے۔
امریکہ نے سن نوے کے عشرے میں عراق کے بہانے اپنی فوجیں سعودی عرب میں داخل کی تھیں اور اکیسویں صدی کے پہلے عشرے کے اوائل میں عراق کے ہی بہانے سے سعودی عرب سے باہر نکلا تھا۔
 سولہ سال کے بعد ایک بار پھر سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کی موافقت سے امریکی فوجیں سعودی عرب میں داخل ہو رہی ہیں۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق کچھ امریکی فوجی عملی طور پر ریاض کے قریب واقع شہزادہ سلطان ایئر بیس پہنچ چکے ہیں اور امریکی ایئر اسکواڈرن کے آنے کے بعد ان کی تعداد پانچ سو تک پہنچ جائے گی۔ امریکی لڑاکا طیارے اور میزائل بھی آئندہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب پہنچ جائیں گے۔
 لیکن اہم سوال یہ ہے کہ سعودی عرب کو سولہ سال کے بعد امریکی فوجیوں کو دوباہ بلانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
 پچھلے چند ماہ کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ تہران اور واشنگٹن دونوں نے بارہا کہا ہے وہ جنگ نہیں چاہتے لیکن جنگ کے امکان کو کسی بھی صورت میں سو فی صد مسترد بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ  جنگ کے ہونے یا نہ ہونے کا انحصار رونما ہونے والے واقعات اور حادثات پر ہوتا ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب نے پچھلے تین برس کے دوران یہ ظاہر کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ کا خیر مقدم کرے گا بلکہ وہ امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ پر اکساتا بھی رہا ہے۔
اس کے باوجود، پچھلے ایک ماہ کے دوران ایران کے دفاعی اقدامات، منجملہ امریکی جاسوس طیارے کی سرنگونی اور برطانوی آئل ٹینکر کا روکا جانا، ایران کی فوجی طاقت کے حوالے سے سعودی حکام کے خوف کا سبب بنا ہے۔
 سعودیوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ مغربی ملکوں اور خاص طور سے امریکہ سے محض جدید ترین ہتھیاروں کی خریداری، سلامتی کی ضمانت نہیں ہے اس لیے اس نے امریکی فوجیوں کو دوبارہ آنے کی دعوت دی ہے۔
 دوسری بات یہ ہے کہ سعودی حکومت امریکہ کو جنگ یمن میں مزید الجھانے کی بھی کوشش کر رہی ہے۔ سعودی عرب یمن کی دلدل میں بری طرح پھنس چکا ہے، جنوبی  یمن سے متحدہ عرب امارات کی پسپائی نے اس جنگ کے حوالے سے سعودیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ آل سعود امریکی فوجیوں کو دوبارہ سعودی عرب بلا کر، واشنگٹن کو جنگ یمن میں زیادہ سے زیادہ مشارکت اور اپنی بنائی ہوئی دلدل سے ریاض حکومت کو بچانے کی ترغیب دلا رہی ہے۔
 سعودی ولی عہد بن سلمان کا ذاتی رجحان بھی سعودی عرب کے اس اقدام کی وجہ ہو سکتا ہے۔ بن سلمان ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے مسلسل اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط سے مضبوط تر بنایا جائے۔ شہزادہ سلطان ایئر بیس میں امریکی فوجیوں کی واپسی کو اس تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔