نجران کے ہوائی اڈے پر یمنی فوج کا ڈرون حملہ
https://urdu.sahartv.ir/news/islamic_world-i354262-نجران_کے_ہوائی_اڈے_پر_یمنی_فوج_کا_ڈرون_حملہ
یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے ڈرون طیاروں نے سعودی عرب کے صوبے نجران کے ہوائی اڈے کو ایک بار پھر نشانہ بنایا ہے۔ دوسری طرف جنوبی یمن میں سعودی حکومت اور متحدہ عرب امارات کی نیابتی جنگ بھی پوری شدت کے ساتھ جاری ہے ۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۳۰, ۲۰۱۹ ۱۱:۱۹ Asia/Tehran
  • نجران کے ہوائی اڈے پر یمنی فوج کا ڈرون حملہ

یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے ڈرون طیاروں نے سعودی عرب کے صوبے نجران کے ہوائی اڈے کو ایک بار پھر نشانہ بنایا ہے۔ دوسری طرف جنوبی یمن میں سعودی حکومت اور متحدہ عرب امارات کی نیابتی جنگ بھی پوری شدت کے ساتھ جاری ہے ۔

یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحی السریع نے کہا ہے کہ یمنی فوج کے ڈرون طیاروں نے جنوبی سعودی عرب کے صوبے نجران کے ہوائی اڈے اور اس کے اطراف میں واقع اہم اور حساس فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں میں اندرون ملک تیار کیے جانے والے قاصف کے ٹو ڈرون طیاروں نے حصہ لیا جو اس سے  پہلے بھی سعودی فوجی اہداف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنا چکے ہیں۔
یمن کی مسلح افواج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ڈرون حملوں کے بعد نجران کے ہوائی اڈے پر فلائٹ آپریشن معطل ہوگیا ہے۔انہوں نے ایک بار پھر خبر دار کیا کہ جب تک سعودی جارحیت بند نہیں ہوجاتی اس وقت تک سعودی عرب کی اہم تنصیبات اور فوجی اہداف پر حملے جاری رہیں گے۔
یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے جمعرات کے روز بھی سعودی جارحیت کے جواب میں جنوبی سعودی عرب کے صوبے عسیر کے شہر ابہا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو اندرون ملک تیار کیے جانے والے قدس ایک قسم کے میزائل سے نشانہ بنایا تھا۔پچھلے چند ہفتوں کے دوان یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے ، ابہا، جیزان اور نجران کے ہوائی اڈوں نیز ملک خالد ایئر بیس کو بارہا ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بیانا ہے۔
 
مذکورہ تینوں ہوائی اڈے نیز ملک خالد ایئر بیس، یمن پر حملہ کرنے والے سعودی لڑاکا طیاروں کو ایندھن اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرتے ہیں۔ سعودی عرب یمن پر بمباری کے لیے اپنے شہری ہوائی اڈوں کا استعمال کر رہا ہے۔دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ متحدہ عرب امارات کے لڑاکا طیاروں نے جنوبی یمن کے اسٹریٹیجک شہرعدن میں سعودی عرب کے حمایت یافتہ مستعفی یمنی صدر منصور ہادی کے مسلح حامیوں پر بمباری کی ہے جس میں چالیس افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ہلاک ہونے والوں میں منصور ہادی کے مسلح گروہوں کے چھے اہم کمانڈر بھی شامل ہیں۔
یمن کی مستعفی حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا یہ اقدام کھلی جارحیت اور عالمی قوانین اور ضابطوں کی خلاف ورزی ہے اور اس کے نتائج کی ذمہ داری بھی ابوظہبی پر عائد ہوتی ہے۔
یمن کی مستعفی حکومت کی وزارت خارجہ نے سعودی عرب سے اپیل کی ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات کے حملے بند کرائے اور منصور ہادی کی حکومت کا ساتھ دے جبکہ سعودی حکومت نے اس معاملے پر تاحال خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
جنوبی یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حامی مسلح جتھے ایک دوسرے پر شدید حملے کر رہے ہیں اور دونوں فریقوں کے درمیان جنوبی یمن کے زیادہ سے زیادہ شہروں پر قبضہ کی جنگ جاری ہے۔