Dec ۲۶, ۲۰۱۹ ۲۲:۰۵ Asia/Tehran
  • کیا سعودی عرب، ایران کے خوف سے اسرائیلی بندرگاہ سے اپنا تیل فروخت کر رہا ہے؟ (دوسرا حصہ)

سعودی عرب کچھ عرصے سے کافی نقصان اٹھا رہا ہے، آرامکو پر الحوثیوں کے ڈرون حملے سے اس کے تیل کی پیداوار آدھی ہوگئی ہے۔

اس حملے سے یہ واضح ہو گیا کہ سعودی عرب، کتنا کمزور ہے اور مستقبل میں اس طرح کے حملے کس طرح سعودی عرب کو تباہ کر سکتے ہیں کیونکہ تیل، سعودی عرب کے اقتصاد کی بنیاد ہے۔

ان حالات میں سعودی عرب کو تیل برآمد کرنے کے لئے نئے راستوں کی تلاش ہے، یہ اسرائیل کی جانب اس کے رجحان کا ایک اور سبب ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ سعودی عرب، طبیعی گیس کی درآمد کے لئے ایلات سے ایک پائپ لائن بچھائے جانے پر اسرائیل سے مذاکرات کر رہا ہے۔

اگر یہ پائپ لائن بچھ گئی تو پھر سعودی عرب کے تیل کو پائپ لائن کے ذریعے اسرائیل کی حیفا بندرگاہ پہنچانا آسان ہو جائے گا اور اس طرح سے سعودی عرب اپنا تیل یورپ اور مغربی ممالک کو فروخت کر سکے گا اور وہ آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب سے تیل بھیجنے سے محفوظ رہے گا جہاں اسے ہمیشہ ایران کا خوف طاری رہتا ہے۔

ادھر اسرائیل کے پاس اپنی پائپ لائن بچھانے کی توانائی نہیں ہے اس لئے اگر سعودی عرب کا اسے تعاون مل جاتا ہے تو اس سے اس کے لئے پائپ لائن بحیرہ روم تک لے جانا ممکن ہو جائے گا۔

اوکلاہاما یونیورسٹی میں مشرق وسطی تحقیقاتی مرکز کے سربراہ جوشدا لینڈس کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کسی بھی صورت میں ایران کے ساتھ جنگ نہيں کرے گا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اس سے اس کی تباہی ہوگی، جبکہ ایران، عراق کے راستے شام سے زمینی رابطہ برقرار رکھنے کی کوشش میں ہے اور اس راستے سے وہ جولان اور لبنان کے ساتھ ملنے والی اسرائیلی سرحد تک زمینی راستے سے پہنچ جائے گا، اس علاقے کو ہلال شیعہ بھی کہا جاتا ہے۔

* سحر عالمی نیٹ ورک کا مقالہ نگار کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے*

ٹیگس