امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات سے قبل وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کی اپنے عمانی ہم منصب سے ملاقات
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات سے قبل اپنے عمانی ہم منصب سے ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہر قسم کے بے جا مطالبات یا مہم جوئی کے مقابلے میں اپنے قومی اقتدار اعلیٰ اور سلامتی کے تحفظ کے لئے مکمل طور پر آمادہ ہے۔
سحرنیوز/ایران: وزیر خارجہ ایران سید عباس عراقچی نے مذاکرات سے پہلے عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی سے ملاقات کی۔ انہوں نے قومی مفادات کے حصول کے لئے سفارتکاری کی مدد لینے کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف کی وضاحت کی اور اس بات پر زور دیا کہ ہر قسم کے بے جا مطالبات یا مہم جوئی کے مقابلے میں اپنے قومی اقتدار اعلیٰ اور سلامتی کے تحفظ کے لئے ایران مکمل طور پر آمادہ ہے۔ وزیر خارجہ ایران نے اسی طرح مذاکرات کی زمین ہموار اور اس عمل کی میزبانی کرنے پر عمان کی قدردانی کی۔
اس موقع پر عمان کے وزیر خارجہ البو سعیدی نے بھی سفارتکاری کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی نیک نیتی، سنجیدگی اور ذمہ دارانہ رویے کی قدردانی کی اور کہا کہ علاقے کے تمام ممالک کشیدگی کو روکنے کے لیے کوشاں ہیں۔ البوسعیدی نے امید ظاہر کی کہ تمام فریق نیک نیتی کے مظاہرہ کے ساتھ حالات کو سمجھتے ہوئے ایک مستحکم معاہدے کی راہ ہموار کرسکیں گے۔ اس موقع پر مذاکراتی عمل کے دوران، ایران کے نقطہ نظر، تجاویز، مطالبات اور تحفظات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
اُدھر ایرانی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ نے مسقط مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران کی مذاکراتی ٹیم ایک فعال اور طاقتور پوزیشن، قومی طاقت اور عوامی حمایت کے ساتھ مذاکراتی عمل میں شرکت کر رہی ہے۔ ابراہیم عزیزی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے مقابلے میں امریکہ کے سابق کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی ہوشیار اور استقامت و پامردی کی حامل قوم اچھی طرح جانتی ہے کہ امریکہ کا پورا ریکارڈ وعدہ خلافیوں، دھوکے بازیوں اور بین الاقوامی ضابطوں کی کھلی خلاف ورزیوں سے لبریز ہے، یہ تجربہ ایک ایسا گرانقدر سرمایہ ہے جو تاریخ کے مختلف ادوار کے بعد ایران کو حاصل ہوا اور اسی سرمایے کو ایران کے فیصلہ ساز عناصر ہمیشہ اپنے اسٹریٹیجک فیصلوں کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔
یاد رہے کہ ایران کے وزیر خارجہ نے آج مذاکرات کا عمل شروع ہونے سے پہلے اپنی ایک ایکس پوسٹ میں لکھا تھا کہ ایران کھلی آنکھوں کے ساتھ اور گزشتہ سال کے واقعات کو بھلائے بغیر سفارتکاری کے عمل میں حصہ لے رہا ہے، ہم مکمل نیک نیتی کے ہمراہ مذاکراتی عمل میں حصہ لے رہے ہیں مگر ساتھ ہی مکمل سنجیدگی کے ساتھ اپنے حقوق پر ڈٹے ہوئے ہیں۔
انہوں نے اپنے پیغام میں وعدوں اور معاہدوں کے احترام کو لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حیثیت کی برابری، باہمی احترام، اور باہمی مفادات صرف نعرے نہیں بلکہ یہ ناگزیر ضرورت اور ایک پائیدار معاہدے کی بنیاد ہیں۔