Jan ۲۴, ۲۰۲۶ ۲۰:۵۶ Asia/Tehran
  • افغانستان میں مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی راہ ہموار کی جارہی ہے : افغان انسانی حقوق تنظیم

افغان انسانی حقوق تنظیم نے طالبان کے نئے فوجداری ضابطے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔

سحرنیوز/عالم اسلام:  افغان انسانی حقوق کی تنظیم رواداری کا کہنا ہے کہ طالبان کا فوجداری ضابطہ اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کے مترادف ہے، یہ فوجداری ضابطہ بنیادی آزادی کو محدود کرتا ہے اور اس ضابطے میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کو قانونی حیثیت دے دی گئی ہے۔

انسانی حقوق گروپ نے کہا ہے کہ طالبان کا فوجداری ضابطہ من مانی گرفتاریوں اور سزاؤں کی اجازت دیتا ہے، یہ فوجداری ضابطہ بین الاقوامی انسانی حقوق سے متصادم ہے۔

 

افغان انسانی حقوق گروپ رواداری نے یہ بات زور دیکر کہی ہے کہ طالبان فوجداری ضابطے کی کچھ شقیں مخالفین کے خلاف ماورائے عدالت قتل کی راہ ہموار کر سکتی ہیں کیونکہ یہ فوجداری ضابطہ طالبان پر تنقید کو جرم قرار دیتا ہے۔انسانی حقوق گروپ نےفوجداری ضابطے کو فوری معطل کیے جانے کا مطالبہ کیا ہے

ہمیں فالو کریں:  

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

قابل ذکر ہے کہ طالبان کے سربراہ ہیبت اللّٰہ اخوندزادہ نے حال ہی میں طالبان عدالتوں کے نئے فوجداری طریقہ کار کے ضابطوں کی منظوری دی ہے، طالبان کا یہ فوجداری ضابطہ افغان عدالتی اداروں میں نافذ کرنے کے لیے جاری کر دیا گیا ہے۔

 

ٹیگس