سعودی عرب میں ہونے والے شام مخالفین اجلاس کی مخالفت
شام کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے سعودی عرب میں شام مخالفین کے نام سے ہونے والے اجلاس کی کھل کر مخالفت کی ہے۔
شام مخالف سیاسی جماعتوں اور دھڑوں نے بدھ کے روز دمشق میں ایک مشترکہ کانفرنس کے دوران سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایسی کسی بھی کانفرنس کے انعقاد کی مخالفت کی جسے شام مخالفین کا نام دیا گیا ہو۔دمشق کانفرنس میں شام مخالف جماعتوں کے تیس سے زائد نمائندوں، رہنماؤں اور مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔ دمشق میں شام مخالفین کی کانفرنس میں شریک رہنماؤں نے کہا کہ ریاض اجلاس میں شرکت کرنے والے شامی عوام کے حقیقی نمائندے نہیں کیونکہ سعودی عرب شامی عوام کے خلاف حملہ کرنے والے دہشت گردوں کی حمایت کر رہا ہے۔
شام مخالفین نے بحران شام میں بعض علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کی مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شام کے بحران کے حل کے لیے ہمہ گیر ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔ شام کے نیشنل ڈیموکریٹک ایکشن پارٹی کے جنرل سیکریٹری محمود مرعی نے دمشق میں منعقدہ شام محالفین کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، دہشت گردی کے حامیوں کی جانب سے بلائی جانے والی ریاض کانفرس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب، شامی عوام کا نمائندہ ہے اور نہ ہی ریاض کانفرنس میں شرکت کرنے والے، شامی عوام کے نمائندے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شام کے اندر رہنے والے مخالفین ہی صورتحال کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ نیشنل کانگریس پارٹی کے جنرل سیکریٹری الیان مسعد نے اس موقع پر کہا کہ بحران شام کے حل کی غرض سے سعودی عرب مناسب مقام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، شام، ایران اور روس کے خلاف سازشوں کا گڑھ بنا ہوا ہے۔ قابل ذکرہے کہ سعودی عرب کے دعوے کے مطابق شام مخالفین کا اجلاس بدھ کے روز دارالحکومت ریاض میں منعقد ہوا تھا۔