عالمی امن و سلامتی کے لئے پاکستان اپنا کردار ادا کرتا رہے گا:ممنون حسین
صدر پاکستان ممنون حسین نے کہا ہے کہ پاکستان انسانیت کو دہشت گردی اور جنگوں کے عفریت سے نجات دلانے کے لئے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز یوم پاکستان کی مرکزی تقریب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہوئی جس میں صدر ممنون حسین، وزیراعظم نواز شریف، وفاقی وزراء، مسلح افواج کے سربراہان، چیرمین جوائنٹ چیفس آف آرمی اسٹاف اور دیگر اعلیٰ شخصیات نے شرکت کی۔
یوم پاکستان کی مناسبت سے تقریر کرتے ہوئے صدر ممنون حسین نے کہا کہ دشمن کا خیال تھا کہ یہ نوزائیدہ ملک زیادہ عرصے تک نہ چل سکے گا لیکن دنیا نے دیکھا کہ پاکستان آج ایک مسلمہ ایٹمی طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ روایتی دفاع کے معاملے میں بھی خود انحصاری کی منازل طے کر چکا ہے جس سے خطے میں دفاعی توازن بھی قائم ہوا ہے اور ہمارے اس عزم کا بھی اعادہ ہوا ہے کہ عالمی امن و سلامتی کے لئے پاکستان اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم یہ بھی واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہمارا اسلحہ و سازو سامان صرف دفاعی سلامتی کے لئے ہے، ہم کبھی ہتھیاروں کی دوڑ میں شریک ہوئے اور نہ ہوں گے لیکن وطن کے دفاع کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا اور اس مقصد کے لئے مسلح افواج کی ہر ضرورت پوری کی جائے گی-
صدر پاکستان نے مزید کہا کہ آج دہشت گردی اور انتہا پسندی کی صورت میں ہمیں ایک نئے دشمن کا سامنا ہے جو ہماری سلامتی اور بقا ہی نہیں بلکہ ترقی کا راستہ بھی روک دینا چاہتا ہے لیکن پاکستانی قوم اور مسلح افواج نے بے مثال قربانیاں دے کر اس محاذ پر شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں، جس کے نتیجے میں شمالی وزیرستان میں آپریشن آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، یہ علاقہ بہت جلد دہشت گردوں سے پاک ہو جائے گا لیکن ہماری منزل پورے پاکستان سے بدامنی اور دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔ آپریشن ضرب عضب اس وقت تک جاری رہے گا جب تک آخری دہشت گرد کا صفایا نہیں ہو جاتا۔
انہوں نے کہا کہ ایک امن پسند ملک کی حیثیت سے پاکستان دنیا کے تمام ممالک اور بالخصوص اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہش مند ہے لیکن ہماری طرف سے امن کی اس خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے ہم اپنے وسائل عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری ایٹمی صلاحیت کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جائے اور ان معاملات میں پاکستان پر تنقید بلا جواز ہے۔