امریکا کا پاکستان سے، طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف دباؤ بڑھانے کا مطالبہ
امریکہ نے ایک بار پھر پاکستان سے، طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکی وزارت دفاع نے کانگریس میں پیش کی جانے والی ایک رپورٹ میں یہ بات زور دیکر کہی ہے کہ خطے کو لاحق سیکورٹی خدشات سے بچانے کے لیے پاکستان کو اپنے کردار میں اضافہ اور اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کا سلسلہ بند کرنا ہوگا۔
امریکی وزارت دفاع کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ داعش جیسے مشترکہ خطرات کے پیش نظر پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں اور مسلح افواج کے ساتھ امریکہ کے مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
اس رپورٹ میں پاکستان سے حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے خلاف ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ بات زور دیکر کہی گئی ہے کہ افغانستان میں طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے سلسلے میں پاکستان بھی اپنا کردارادا کرسکتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ کچھ عرصہ قبل پاکستان کے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بعض خبروں میں کہا گیا تھا کہ حکومت پاکستان، طالبان کے سابق سرغنہ ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بارے میں امریکی حکومت کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
طالبان کا سرغنہ ملا اختر منصور،کچھ عرصہ قبل پاکستان کے علاقے نوشکی میں، امریکی ڈرون حملے کے دوران ہلاک ہوا تھا۔