Aug ۰۵, ۲۰۱۶ ۱۸:۳۶ Asia/Tehran
  •  پاکستان: سعودی عرب میں گرفتار شہریوں کے اہل خانہ کی مالی امداد

پاکستان کی حکومت سعودی عرب میں گرفتار اپنے شہریوں کے اہل خانہ کی مالی معاونت کرنے پر مجبور ہو گئی۔

پاکستان کے وزیراعظم "میاں نواز شریف" نے سعودی عرب میں پھنسے پاکستانیوں کے اہل خانہ کو نقد رقم کی شکل میں امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ ترجمان پرائم منسٹر ہاؤس کے مطابق وزیراعظم "میاں نوازشریف" نے سعودی عرب میں فاقوں سے دوچار محنت کشوں اور مزدوروں کے لواحقین کے لئے امدادی پیکج کی منظوری دے دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سعودی عرب میں معاشی بحران کے سبب غیرملکی باشندوں، خصوصا پاکستان کے محنت کشوں کو سات آٹھ ماہ میں سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں جس کی بناء پر وہ خود اور ان کے گھر والے شدید مالی مشکلات کے علاوہ فاقہ کشی سے دوچار ہو گئے ہیں۔ مہر نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں آٹھ  ہزار سے زائد پاکستانی مزدور پھنسے ہوئے ہیں کہ جن کے پاس وطن واپس آنے کے لئے نہ تو ہوائی جہاز کا کرایہ ہے  نہ ہی سفری دستاویزات۔ کسمپرسی سے دوچار پاکستانی شہریوں کا کہنا ہے کہ ہمیں ہمارے پاسپورٹ بھی واپس نہیں کئے جا رہے ہیں۔ ادھرسعودی عرب میں پاکستان کے سفیر منظور الحق نے بتایا کہ مزدوروں کو کھانے پینے کے لئے دو سو ریال دیئے جا رہے ہیں۔ سعودی عرب میں پاکستانی سفیر نے متعلقہ سعودی حکام سے بھی ملاقات کی ہے جس میں پاکستانی محنت کشوں کا معاملہ اٹھایا ہے۔ دوسری جانب ہندوستانی مزدوروں کے ساتھ ناروا سلوک کا سلسلہ جاری ہے- ہندوستانی سفارت خانے کی جانب سے جدہ میں کام کرنے والے ہندوستانی مزدوروں میں کھانے کے پیکٹ تقسیم کئے جا رہے ہیں۔ ایک عرب ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ جدہ میں فاقے سے دوچار محنت کشوں کو ہندوستانی سفارت خانے کی جانب سے خوراک مہیا کئے جانے کا اقدام دنیا کے ایک امیر ترین ملک ہونے کے ناطے سعودی عرب کے لئے انتہائی رسوائی کا سبب اور عربوں کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔