Aug ۳۱, ۲۰۱۶ ۲۱:۰۲ Asia/Tehran
  • اسلام آباد: سعودی عرب میں  پھنسے محنت کشوں کے اہل خانہ کا احتجاجی مظاہرہ

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایسے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے جن کے گھر والے سعودی عرب میں نوکریوں سے برطرف ہونے کے بعد پچھلے دس مہینے کی بقایا تنخواہیں اور واجبات نہ ملنے کی بنا پر سرگرداں اور پریشان ہیں۔

ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی شہری سعودی عرب کے مختلف شہروں منجملہ جدہ اور ریاض میں انتہائی سخت حالات میں بے سروسامانی کی زندگی گزار رہے ہیں- سعودی کمپنیوں نے انہیں ملازمتوں سے برطرف کر دیا ہے اور پچھلے دس مہینے سے انہیں ان کی باقی تنخواہیں اور واجبات بھی نہیں دیے گئے ہیں۔ ان پاکستانی شہریوں کے گھروالوں نے اس صورتحال کے خلاف اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرہ کیا ہے-

مظاہرین ایسے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر سعودی حکومت کی مذمت میں نعرے درج تھے- مظاہرین نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ سعودی عرب میں پھنسے ان پاکستانی شہریوں اور محنت کشوں کی وطن واپسی کے فوری انتظامات کرے- مظاہرین کا کہنا تھا کہ پچھلے کئی مہینے سے پاکستانی محنت کش سعودی عرب میں سخت مشکلات سے دوچار ہیں لیکن ان کی مشکلات کے حل اور انہیں واپس وطن لانے کے لئے کوئی سنجیدہ کارروائی نہیں ہوئی ہے۔

سعودی عرب میں پھنسے پاکستانی شہریوں اور محنت کشوں کے اہل خانہ  کا کہنا تھا کہ عیدالاضحی قریب ہے اور ہم چاہتے ہیں ہمارے بیٹے، مرد اور جو بھی پاکستانی شہری سعودی عرب میں پھنسے ہیں وہ ہمارے ساتھ پاکستان میں عید الاضحی منائیں-

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہزاروں پاکستانی محنت کش سعودی عرب میں پچھلے دس مہینے سے تنخواہ نہ ملنے اور نوکریوں سے برطرف ہونے کے باعث سخت پریشان ہیں حتی ان کے پاس کھانے کے لئے بھی پیسے نہیں ہیں- ان میں بہت سے افراد ایسے ہیں کہ جن کے پاسپورٹ ان کی کمپنیوں کے مالکان یا کفیلوں کے پاس ہیں اور وہ وطن واپس لوٹنا چاہیں بھی تو نہیں لوٹ سکتے-

آل سعود کی جنگ پسندانہ پالیسیوں کی وجہ سے سعودی عرب کو سخت اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے چنانچہ اس ملک میں کام کرنے والے دنیا کے مختلف ملکوں کے ہزاروں مزدوروں اور محنت کشوں کو تنخواہیں وقت پر نہیں مل رہی ہیں اور انہیں نوکریوں سے نکالا جا رہا ہے۔