پاکستان اور ہندوستان کے درمیان مذاکرات
پاکستان کی سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان مذاکرات نہ ہونے کے باعث پورے خطے کی ترقی رکی ہوئی ہے اور دیگر ممالک ہم پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔
پاکستان کی سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھرنے ایک نجی ٹیلیویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے بات چیت نہ کرنے سے پورے خطے کو ہی نقصان ہو رہا ہے اور ترقی کا عمل رکا ہوا ہے۔
حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں عقلمند لوگ رہتے ہیں اسی لیے انہوں نے ہندوستان سے بات چیت کی حمایت کی ہے اوردو تہائی پاکستانیوں نے بھارت سے بات چیت کی حمایت کی ہے۔ لیکن یہاں کا طبقہ اشرافیہ غیر عقلمندانہ فیصلے کرتا ہے۔اس بارے میں ہمیں سوچنا ہوگا کہ پاکستان اورہندوستان کے آپس میں بات نہ کرنے سے کس کو فائدہ ہے اور کس کو نقصان ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ میں جب بھی سارک کانفرنس یا کسی اور علاقائی کانفرنس میں شریک ہوئی تو خطے کے ممالک نے دونوں ملکوں پرانگلیاں اٹھائیں اور مذاکرات پر زور دیا۔ ہندوستان اور پاکستان کے مابین کئی تصفیہ طلب مسائل دونوں ممالک کی جانب سے مذاکرات اور گفتگو نہ کرنے کی وجہ سے جوں کے توں باقی ہیں۔