سعودی فوجی اتحاد کی سرپرستی امریکہ کے ہاتھ میں
ملی یکجہتی کونسل کےسربراہ نے کہا ہے کہ مشرق وسطٰی میں جو قوتیں داعش کے خلاف لڑ رہی ہیں، داعش کے آگے صف آراء ہیں اور اپنی قربانیاں پیش کر رہی ہیں، انہیں آپ فوجی اتحاد میں شامل نہیں کررہے ہیں، تو اس اتحاد کو داعش کے خلاف اتحاد کیسے کہا جا سکتا ہے۔
ملی یکجہتی کونسل اور جمعیت علمائے پاکستان (نوارنی) کے سربراہ صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے کہا ہے کہ شام، عراق اورایران سب سے زیادہ داعش کے خلاف لڑ رہے ہیں، پھر اس سعودی فوجی اتحاد کی سرپرستی امریکہ کررہا ہے، داعش کو بھی پیدا کرنے والا اور اسے پروان چڑھانے والا امریکہ ہی ہے، داعش کو جدید ترین اسلحہ اسرائیل کے ذریعے پہنچانا اور اسرائیل کے ذریعے داعش کی پشت پناہی کرنے والا امریکہ ہی ہے، امریکہ داعش کا نام لیکر مزید اسلامی ممالک پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر سعودی فوجی اتحاد حقیقت میں داعش کے خلاف ہوتا تو جو ممالک پہلے سے داعش کے خلاف لڑ رہے ہیں، ان کو شامل کرتے اور ان ممالک کے ساتھ ملکر کوئی حکمت عملی طے کرتے، داعش کو ختم کرنا دو دن کا کام تھا ان کا، لیکن جو طاقتیں داعش کے خلاف لڑ رہی ہیں، آپ ان کے خلاف فوجی اتحاد بنا کر داعش کو ختم کرنے کے بجائے الٹا تقویت پہنچا رہے ہیں۔
صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے کہا کہ امریکہ داعش کا نام استعمال کرکے مسلمانوں کو تقسیم کر رہا ہے۔ عالم اسلام کا المیہ ہے کہ اس کے اکثر حکمرانوں نے غلامی مصطفٰی کا پٹا اپنے گلے سے اتار کر امریکی غلامی اختیار کی ہوئی ہے۔
ملی یکجہتی کونسل کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی سربراہی میں جو فوجی اتحاد بنا ہے، اس میں شمولیت کا مسئلہ بہت ہی نازک اور حساس مسئلہ ہے، اور یہ تاثر قوی ہو رہا ہے کہ یہ فوجی اتحاد ایران کے خلاف ہے، ایران اس فوجی اتحاد کی عالمی پلیٹ فارم پر مخالفت کر چکا ہے، اگر ایسی حساس صورتحال میں پاکستان اس میں شامل ہوتا ہے، تو اس سے پاکستان کی غیر جانبدارانہ پوزیشن انتہائی متاثر ہو جائے گی ایران ہمارا اسلامی اور دوست پڑوسی ملک ہے۔
صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیرنے کہا کہ پاکستان کو فوری طور پر اسلامی سربراہی کانفرنس طلب کرنی چاہیئے، عالم اسلام کو درپیش تمام اہم مسائل کے حل کیلئے مل بیٹھ کر لائحہ عمل طے کرنا چاہیئے، اتحاد و اتفاق کی فضاء قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے، سعودی بلاک اور ایرانی بلاک میں تقسیم ہونے کے بجائے اسلامی بلاک بنانے کی کوشش کرنی چاہیئے اور پاکستان کو اس حوالے سے اپنا کلیدی اور بھرپور کردار ادا کرنا چاہیئے۔