پاکستان، امریکہ کے لئے قربانی کا بکرا نہیں
وزیرخارجہ خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنا کر افغانستان کو مستحکم نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان کی سینیٹ میں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی اور پر امن افغانستان کے لیے تمام عالمی کوششوں کی حمایت کی جبکہ آئندہ بھی افغانستان میں امن قائم کرنے کے لئے عالمی کوششوں کا ساتھ دیتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کیا ہے ۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہم نے کبھی بھی افغانستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش نہیں کی، ہم افغانستان کے ساتھ پرامن تعلقات کے خواہاں ہیں، پاکستان اپنی سرزمین کسی ملک کے خلاف تشدد کے لیے استعمال نہیں ہونے دیتا اور دوسرے ممالک سے بھی ایسا ہی تعاون چاہتا ہے لیکن پاکستان کو مشرق اور مغربی سرحد سے غیر مستحکم کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں جس کے لئے افغانستان میں پاکستان مخالف محفوظ پناہ گاہیں بنیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ لاکھوں پاکستانیوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور جنگ میں 120 ارب ڈالر سے زیادہ نقصان ہوا، امریکا اور افغانستان کو بھی ہمارے تجربات سے استفادہ کرنا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری مالی معاونت کے بجائے قربانیوں اور کوششوں کو تسلیم کیا جائے۔
دوسری جانب قومی سلامتی کمیٹی نے امریکی صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیانات کو مسترد کرتے ہوئے امریکی پالیسی پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس 5 گھنٹے تک جاری رہا جس میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی بے لوث کوششوں کو عالمی برادری کے سامنے اجاگر کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
قومی سلامتی کمیٹی میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے پاکستان کی کوششوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا، پاکستان عالمی کوششوں کا حصہ ہے اور یہاں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں نہیں ہیں ۔