سعودی پیکج پر پاکستانی اپوزیشن کا اعتراض
پاکستان کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے سعودی عرب کی جانب سے دیئے جانے والے بارہ ارب ڈالر کے اقتصادی پیکیج کو مشکوک قرار دیا ہے۔
جمعرات کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ نون کی ترجمان مریم اورنگزیب نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بتایا جائے سعودی عرب نے کن شرائط کی بنیاد پر بیل آؤٹ پیکج دینے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ سعودی عرب نے بغیر شرائط کے پاکستان کو قرض دینے کی حامی بھری ہو۔
پاکستان مسلم لیگ نون کی ترجمان نے کہا کہ یہ ایک سنجیدہ اور حساس معاملہ ہے لہذا حکومت کو چاہیے کہ وہ سعودی عرب کی جانب سے ملنے والے بیل آؤٹ پیکج پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی نے بھی سعودی پیکیج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اہم معاملات پارلیمنٹ کے مشورے سے انجام پانا چاہئیں لیکن حکومت عوامی نمائندوں کو کوئی اہمیت نہیں دے رہی ہے۔
رضا ربانی نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ آل سعود حکومت نے کن مطالبات کے تحت پاکستان کو بارہ ارب ڈالر کا قرض دینے کی حامی بھری ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ان کا ملک جنگ یمن کا خاتمہ چاہتا ہے اور بقول ان کے اسلام آباد حکومت، یمن اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کرنا چاہتی ہے۔