Jun ۱۶, ۲۰۱۸ ۲۰:۴۰ Asia/Tehran
  • آئندہ عالمی کپ قٹبال کی میزبانی کے مسئلے پر سعودی عرب اور مراکش کے اختلافات

حکومت مراکش کے ترجمان نے دو ہزار چھبّیس کے عالمی کپ فٹبال کی میزبانی کے لئے سعودی عرب کی جانب سے مراکش کی حمایت میں ووٹ نہ دیئے جانے پر کڑی تنقید کی ہے۔

الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت مراکش کے ترجمان مصطفی الخلفی نے عالمی کپ فٹبال کی میزبانی سے متعلق مراکش کے حق میں بعض عرب ملکوں منجملہ سعودی عرب کی جانب سے ووٹ نہ دیئے جانے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

مراکش میں سوشل میڈیا پر بھی اس سلسلے میں سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے جہاں کے عوام، روس کے مقابلے میں سعودی عرب کی شکست پر خوشی کا اظہار کرتے دیکھے جا رہے ہیں۔

سعودی حکام کی جانب سے دو ہزار چھبیس کے عالمی کپ فٹبال کی میزبانی کے لئے مراکش کے مقابلے میں امریکہ کی حمایت میں موقف اختیار کئے جانے پر مراکش کے عوام نے سوشل میڈیا پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب کے مراکش مخالف اس اقدام کو دنیا عرب سے غداری کے مترادف قرار دیا ہے۔

مراکش کے عوام نے سعودی عرب سے تعلقات منقطع اور یمن کے خلاف سعودی اتحاد میں شامل مراکش کے فوجیوں کو واپس بلائے جانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

واضح رہے کہ فٹبال کی بین الاقوامی فیڈریشن فیفا کے فیصلے کے مطابق دو ہزار چھبیس کے عالمی کپ فٹبال کی میزبانی امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو مل کر کریں گے۔