افغان صدر کو پاکستان کے ساتھ تعلقات معمول پر آنے کی امید
-
افغان صدر کو پاکستان کے ساتھ تعلقات معمول پر آنے کی امید
افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پاکستان کے ساتھ تعلقات معمول پر آنے کی امید ظاہر کی ہے
فرانسیسی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا کہ انہیں پوری امید ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران پاکستان کے ساتھ تعلقات معمول پر آجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات معمول پر آنے کے بعد ہو سکتا ہے کہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کا سلسلہ پھر سے شروع ہو جائے۔
افغانستان کے صدر نے کہا کہ وہ پاکستان کی جانب سے ہرٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کی دعوت پر بھی غور کر رہے ہیں۔ ہرٹ آف ایشیا کے نام سے دو روزہ اجلاس آٹھ اور نو دسمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہوگا جس میں چین، ہندوستان، ایران، روس، سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات، آذربائیجان، کرغزستان، قزاقستان، تاجکستان اور ترکمانستان کے وزرائے خارجہ یا سینیئر نمائندے شرکت کریں گے۔
قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے پیر کے روز پیرس میں موسمیاتی تبدیلیوں کے بارے میں جاری عالمی اجلاس کے موقع پر افغانستان کے صدر اشرف غنی سے ملاقات کی تھی۔ پاکستانی وزیراعظم کے دفتر سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق نواز شریف اور اشرف غنی کے درمیان ملاقات میں وزیراعظم نے افغان صدر کو افغانستان کی قیادت میں ہونے والے امن مذاکرات کی حمایت میں ایک بار پھر مذاکرات کے لیے میزبانی کی پیشکش کی۔
طالبان کے سرغنہ ملاعمر کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہوگیا تھا، جبکہ افغانستان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بھی فریقین میں مذاکرات سے متعلق بداعتمادی پائی جاتی ہے۔
افغان صدر کی جانب سے پاکستان پر بار بار الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ اس کی سرزمین سے افغانستان میں دہشت گرد حملے کیے جارہے ہیں اور یہ کہ پاکستان، افغانستان کے مفادات کے خلاف کام کر رہا ہے۔ پاکستان ان الزامات کو سختی کے ساتھ مسترد کرتا ہے۔