Dec ۲۷, ۲۰۱۵ ۲۱:۰۲ Asia/Tehran
  • بیس مسلمان برطانوی خاندانوں کو معتبر ویزہ ہونے کے باجود امریکہ جانے سے روک دیا گیا

بیس مسلمان برطانوی خاندانوں کو معتبر ویزہ ہونے کے باجود امریکہ جانے سے روک دیا گیا ہے۔

جس وقت امریکہ کے ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی متنازعہ تقریر میں امریکہ میں مسلمانوں کی آمد روکنے کا مطالبہ کیا تھا تو ان کے برطانوی برداران بھی، مسلمانوں کے خلاف کھلی دشمنی اور آشکارا نسل پرستی کے اظہار پر انگشت بہ دنداں رہ گئے تھے اور انہوں نے بھی بعض امریکی سیاستدانوں کی طرح اس پر اعتراض کیا تھا۔

البتہ خود ٹرمپ نے اپنی تقریر میں بھی کہا تھا کہ یہ سوچ پہلے سے موجود ہے اور وہ صرف اسے کھل کر بیان کر رہے ہیں۔

ڈیلی ٹیلی گراف کے مطابق حالیہ چند روز کے دوران کم سے کم بیس مسلمان برطانوی خاندانوں کو امریکہ میں داخل ہونے سے روکے جانے کے بعد، اس ملک میں پائی جانے والی اسلام دشمنی مزید آشکارا ہوگئی ہے۔ طارق محمود بھی ان مسلمانوں میں سے ایک ہیں جنہیں معتبر ویزہ ہونے کے باجود اپنے اہل خانہ ساتھ امریکہ جانے کے لیے جہاز کی سڑھیاں چڑھنے سے روک دیا گیا۔

ٹرمپ کی سوچ پر عمل ہو رہا ہے اسلامو فوبیا کھل کے سامنے آگیا ہے، مسلمانوں پر تہمت لگائی جارہی ہے۔ انہیں شہری حقوق سے محروم کیا جارہا ہے اور کوئی جواب دینے والا نہیں ۔

ایسا لگتا ہے کہ امریکی حکام نسل پرستی کے دور میں واپس جا رہے ہیں۔

اکثر مبصرین کا خیال ہے کہ حکومت امریکہ، اپنے دعوے کے برخلاف ڈونلڈ ٹرمپ کی سوچ پر عمل کر رہی ہے۔ بہت سے مسلمانوں کو امریکہ میں داخل ہونے سے روک کر اس حکومت نے بیسویں صدی کے نسل پرستانہ دور کی جانب واپسی شروع کردی ہے۔