Jan ۰۱, ۲۰۱۶ ۱۹:۴۷ Asia/Tehran
  • روس نے یوکرین کے ساتھ آزاد تجارت کا معاہدہ معطل کر دیا

روس اور یوکرین کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے کو معطل کرنے کے بارے میں ماسکو کے جاری کردہ نوٹیفکیشن پر یکم جنوری دوہزار سولہ سے عملدرآمد شروع ہوگیا ہے۔

روسی وزیر اعظم دیمتری میدودیف نے گزشتہ ہفتے یوکرین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ معطل کیے جانے کے اعلامیے پر دستخط کیے تھے۔ اس اقدام کے بعد یوکرین سے روس کے لیے لائی جانے والی تمام اشیا پر درآمدی ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔ روسی وزیراعظم کے جاری کردہ اعلامیے میں یوکرین کے لیے روسی گیس کی برآمد کو اس فیصلے سےمستثنی رکھا گیا ہے۔

گزشتہ پیر کے روز روسی وزیراعظم کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ روس اور یوکرین کے درمیان آزاد تجارت کا معاہدہ جس پر دونوں ملکوں نے دو ہزار گیارہ میں دستخط کیے تھے، یوکرین کی جانب سے روس کے خلاف یورپی پابندیوں کا ساتھ دینے کی بنا پر معطل کر دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ جمعے کے دن سے یوکرین کے خلاف روس کی غذائی پابندیوں پر بھی عملدرآمد شروع کردیا گیا ہے۔ روس نے یہ فیصلہ ، یوکرین اور یورپی یونین کے ساتھ مذاکراتی عمل کی ناکامی کے بعد کیا ہے اور روسی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ملکی پیداوار کو تحفظ فراہم کرنے کی غرض سے غیر ملکی مصنوعات کی غیر ضروری درآمدات کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔ یوکرین کے وزیراعظم نے روس کے اس اقدام پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک بھی روس کے خلاف ایسی ہی پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

دوسری جانب یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ وہ یکم جنوری دو ہزار سولہ سے یوکرین اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے پر عملدرآمد شروع کر رہی ہے۔ یہ معاہدہ، یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت سے متعلق سن دو ہزار چودہ کے معاہدے کا حصہ ہے۔ یورپی یونین کے جاری کردہ اعلامیہ میں دعوی کیا گیا ہے کہ آزاد تجارتی معاہدے پر عملدرآمد کے نتیجے میں یوکرین کی معیشت میں ترقی کے بےشمار مواقع پیدا ہوں گے۔ اس بیان میں یوکرین اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر عملدآمد کو یوکرین کے عوام کے لیے سودمند قرار دیا گیا ہے۔