Mar ۱۳, ۲۰۲۶ ۰۰:۳۱ Asia/Tehran
  • ایران و ہندوستان کے سربراہان مملکت کی گفتگو، علاقائی حالات پر تبادلہ خیال

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور ہندوستان کے وزیرِاعظم نریندر مودی کے درمیان ٹیلیفونی گفتگو ہوئی جس میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

سحرنیوز/ایران: ایرانی صدر نے ہندوستانی  اور عوام کی جانب سے ایران کے ساتھ اظہارِ ہمدردی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہندوستان کو ہمیشہ ایک دوست اور اہم معاشی شراکت دار سمجھتا ہے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور سفارتی حل کی راہ پر گامزن تھا، تاہم اسی دوران امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے حملہ کیا گیا جو بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کے خلاف تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس حملے میں انقلاب اسلامی کے رہبر، اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور میناب کے ایک اسکول میں 168 معصوم طلبہ شہید ہوئے۔
صدرِ ایران نے واضح کیا کہ ایران جنگ کا آغاز کرنے والا نہیں اور نہ ہی جنگ کو جاری رکھنا چاہتا ہے، لیکن اپنے جائز دفاع کے حق کے تحت ان امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا جو حملوں کا مرکز تھے۔
انہوں نے صہیونی حکومت کی جانب سے بے گناہ افراد کے قتل کو ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران خطے میں عدم استحکام نہیں چاہتا اور ہندوستان سمیت دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے، خصوصاً برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم کے فریم ورک میں۔
ہندوستان کے وزیرِاعظم نریندر مودی نے بھی مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ایران کا دوست ہے اور دہلی سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے ماہِ رمضان میں جنگ کے آغاز پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نیا شمسی سال اور عید نوروز خطے میں امن، استحکام اور سکون کا پیغام لے کر آئے گا اور مسائل کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے نکالا جائے گا۔

ہمیں فالو کریں:  

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

 

ٹیگس