بقائی: یہ قابل قبول نہیں ہے کہ دشمن مذاکرات کی بات کرے اور پھرہمیں جنگ کا سامنا ہو
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم دشمن کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ تم جب چاہو جنگ شروع کردو اور جب چاہو جنگ بندی کا اعلان کردو
سحرنیوز/ایران:اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ یہ قابل قبول نہیں ہے کہ مذاکرات کی بات کریں، جنگ بندی کریں اور پھر ہمیں جنگ کا سامنا ہو۔
اسماعیل بقائی نے حکومت کے انفارمیشن سینٹر سے گفتگو میں ایران کے خلاف امریکا اورصیہونی حکومت کی فوجی جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک برس سے بھی کم عرصے میں ہم دوسری بار اس صورتحال سے دوچار ہوئے ہیں۔
دفترخارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہم سفارتکاری میں تھے، خلوص نیت اورسنجیدگی کےساتھ مذاکرات کررہے تھے اور بظاہر نتیجے کے قریب پہنچ چکے تھے۔
انھوں نے کہا کہ ہم فریق مقابل کی نیت سمجھ رہے تھے کیونکہ اس سے پہلے امریکی فیصلے پرصیہونی حکومت کی شرپسندیوں اور اثرورسوخ کے نتائج کا تجربہ کرچکے تھے لیکن اس عمل کو آگے بڑھانا اپنی ذمہ داری سمجھ رہے تھے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اگر مذاکرات کا راستہ طے نہ کیا ہوتا تواس وقت علاقہ اورعالمی برادری ہم پرمعترض ہوتی اوریہ کہہ سکتی تھی کہ آپ نے مذاکرات نہیں کئے، اگر مذاکرات کئے ہوتے تو امریکا قائل ہوجاتا، سمجھوتہ ہوجاتا اور امریکا جنگ نہ کرتا، لیکن یہ نہیں ہوا۔ دونوں بارہم مذاکرات کررہے تھے، انھوں نے مذاکرات مکمل نہیں ہونے دیئے اوراس جرم کا ارتکاب کیا۔
انھوں نے کہا کہ ہم ان تجربات کو نظراندازنہیں کرسکتے۔ یہ بات قبول نہیں کی جاسکتی کہ ہرکچھ دن کے بعد مذاکرات کی بات کریں، جںگ بندی کریں اور پھر ہمیں جنگ اورجرائم کا سامنا ہو۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس وقت ہمارے لئے جو بات اہم ہے، وہ دشمن کو یہ دکھا دینا ہے کہ تم ہمارے عوام کے ساتھ اس طرح پیش نہیں آسکتے کہ جب چاہو جنگ شروع کردو اور جب چاہو جنگ بندی کی بات کرو۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
انھوں نے کہا کہ ہماری افواج دشمن کو محکم اور ناقابل فراموش درس دینے پر مصمم ہیں۔اس وقت ہماری پوری توجہ سرزمین ایران کے دفاع پر مرکوز ہے اور ان حالات میں کوئی بھی دوسری بات دفاع سے ہماری توجہ نہیں ہٹاسکتی۔