Feb ۰۷, ۲۰۱۶ ۱۹:۴۴ Asia/Tehran
  • برطانیہ کو سعودی عرب کو اسلحہ بیچنا بند کرنا چاہئے: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے برطانیہ سے سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت روکنے پر زور دیا ہے۔

پریس ٹی وی کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے رائل انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئر میں خطاب کرتے ہوئے دس ماہ سے جاری جنگ یمن کے حوالے سے آخرکار اپنی خاموشی توڑی دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ برطانیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے ملک کو ہتھیاروں کی فراہمی روک دے جو ، اسکولوں، اسپتالوں، مساجد، بنیادی تنصیبات اور عام شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت نے یمن میں بلاہدف بمباری کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن آگ میں جل رہا ہے اور اتحادیوں کے حملوں میں کھلے عام ، اسکول، اسپتال، مساجد ، بنیادی تنصیبات اور عام شہری نشانہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے یمن سمیت جنگ زدہ ممالک میں عام شہریوں کے قتل اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھا م میں بڑی طاقتوں کی ناکامی پر بھی کڑی نکتہ چینی کی۔ سعودی عرب ایک عرصے سےبرطانوی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ برطانیہ کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سن دوہزار پندرہ کے پہلے نو ماہ کے دوران لندن نے ریاض حکومت کو تقریبا تین ارب پونڈ کے ہتھیار فروخت کیے ہیں جن میں سے دو ارب اسی کروڑ کے ہتھیار جنگ یمن شروع ہونے کے بعد سعودی عرب کو فراہم کیے گئے ہیں۔ سعودی عرب کو برطانوی اسلحوں کی فروخت بند کرنے کا مطالبہ چار ماہ قبل اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ہونے والی اس رپورٹ کے بعد شدت اختیار کر گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب جنگ یمن میں عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورز ی کر رہا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سعودی اتحاد کی جانب سے یمن میں غیر فوجی اہداف کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں عام پناہ گاہوں، شادی کی تقریبات، عام شہریوں کی گاڑیوں، رہائشی مکانات، اسپتالوں ، مسجدوں، اسکولوں ، بازاروں اور کارخانوں پر سعودی اتحاد کی وحشیانہ بمباری کی جانب اشارہ کیا گیا تھا۔