شام میں زمینی کاروائی کے بارے میں روسی وزیر اعظم کا انتباہ
-
روسی وزیر اعظم دیمیتری مدودف
روسی وزیر اعظم نے خبردار کیا ہے کہ شام میں غیر ملکی افواج کی کسی بھی طرح کی زمینی کاروائی، ایک طولانی اور بھرپور جنگ کا باعث بن سکتی ہے-
پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق روسی وزیر اعظم دیمیتری مدودف نے کہا ہے کہ شام میں ممکنہ زمینی حملے سے متعلق امریکی دھمکی، محض گیڈر بھبکی ہے- مدودف نے یہ بیان، امریکی وزیر خارجہ کے اس بیان کے چند دن بعد دیا ہے کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ غیر ملکی افواج، امن کی کوششوں کے ناکام ہونے کی صورت میں شام میں داخل ہوجائیں گی-
واضح رہے کہ جمعے کو میونیخ سیکورٹی کانفرنس میں یہ طے پایا ہے کہ شام میں جنگ روکی جائے تاکہ شام کی حکومت اور مخالفین کے درمیان امن منصوبے پر عملدرآمد کا موقع فراہم ہوسکے- در ایں اثنا سعودی عرب اور ترکی کے حکام نے حالیہ دنوں کے دوران دہشت گرد گروہ داعش کے مقابلے کے بہانے شام میں زمینی فوجی کارروائیوں میں شرکت کی بات کی ہے۔ یہ بات ایسے وقت میں کی گئی ہے کہ جب شام میں دہشت گرد گروہ داعش کے عناصر کو اس ملک کی فوج اور عوامی رضار کار فورس کے اہلکاروں کے ہاتھوں مسلسل شکستوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
شام میں روسی فضائیہ کے حملوں کے آغاز سے لے کر اب تک سیکڑوں دہشت گرد اس ملک کے مختلف علاقوں میں ہلاک کئے گئے ہیں اور دہشت گردوں کے دسیوں ٹھکانے تباہ کردیئے گئے ہیں-