اسرائیل کے ساتھ عرب ملکوں کے تعلقات
صیہونی ذرائع نے ایک بار پھر انکشاف کیا ہے کہ صیہونی حکومت کے ساتھ خلیج فارس کے عرب ملکوں کے تعلقات بڑھتے جا رہے ہیں۔
صیہونی اخبار یروشلم پوسٹ نے دو ہزار پندرہ میں یورپی اشیا اور مصنوعات سے لدے ہوئے ہزاروں ٹرکوں کے صیہونی حکومت کے زیر قبضہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے خلیج فارس کے ملکوں کے لئے گذرنے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ نیا راستہ جو یورپ سے مقبوضہ فلسطین ہوتے ہوئے خلیج فارس کے عرب ملکوں کو پہنچتاہے، اسرائیل اور مذکورہ عرب ملکوں کے تعلقات میں قربت کا بہترین ذریعے قرار پایا ہے۔ یروشلم پوسٹ نے تازہ ترین اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ شام میں جنگ جاری رہنے کے تعلق سے جو چیز اسرائیل کی دلچسپی کا باعث بنی ہے وہ یہ ہے کہ اسرائیل، یورپ سے خلیج فارس کے عرب ملکوں کے لئے اشیا اور مصنوعات کی ٹرانزیٹ کی صورت میں بڑے پیمانے پر منافع حاصل کر رہا ہے۔ صیہونی حکومت کے نائب وزیر برائے علاقائی تعاون ایوب قرا نے بھی اسرائیلی کابینہ میں اشیا اور مصنوعات کی ٹرانزیت کے راستے کی توسیع کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو ترکی اور عرب ملکوں کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔ صیہونی حکومت کی وزارت برائے علاقائی تعاون کے ترجمان نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جب تک شام میں جنگ جاری رہے گی اسرائیلی بندرگاہیں بہت زیادہ سرگرم رہیں گی کیونکہ یورپی اور عرب ممالک اسرائیل کو اشیا کی ٹرانزیٹ کے مطمئن راستے کے طور پر دیکھتے ہیں۔