Feb ۲۶, ۲۰۱۶ ۱۵:۱۸ Asia/Tehran
  • سعودی عرب کو ہتھیار فراہم نہ کئے جائیں، یورپی پارلیمنٹ

یورپی پارلیمنٹ نے ایک قرار داد کے ذریعے سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔

یورپی پارلیمنٹ کے ارکان نے 212 کے مقابلے میں359 ووٹوں سے ایک قرارداد کی منظوری دی ہے جس میں یورپی یونین کے عہدیداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ سعودی عرب کو اسلحہ کی سپلائی فوری طور پر بند کر دیں۔ یورپی پارلیمنٹ کی اس قرارداد میں برطانیہ، فرانس اور یورپی یونین کے دیگر ملکوں سے کہا گیا ہے کہ وہ یمن میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے والے کسی بھی ملک کو اسلحہ فروخت نہ کریں۔ یورپی پارلیمنٹ کے ارکان کا کہنا ہے کہ یمن میں گذشتہ سال مارچ سے جاری حملوں کے بعد سے برطانیہ نے سعودی عرب کو 3 ارب ڈالر سے زیادہ کا اسلحہ فروخت کیا ہے۔ سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت پر پابندی لگانے کی قرار داد کے ایک محرک اور یورپی یونین میں برطانیہ کے نمائندے رچرڈ ہو وٹ نے کہا ہے کہ یورپی ہتھیاروں کے استعمال سے یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں انتہائی سنگین صورت حال اختیار کر گئی ہیں اور سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت کو روکنا یورپی یونین کی ذمہ داری ہے۔ یورپی ارکان پارلیمنٹ نے یورپی یونین کے امور خارجہ کی انچارج فیڈریکا موگرینی سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ سعودی عرب کے خلاف باضابطہ اور حقیقی معنوں میں اسلحے کی فروخت پر پابندیاں عائد کرانے کے لئے اپنی پوری توانائیاں بروئے کار لائیں۔

یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ امریکہ سعودی عرب کو اسلحہ فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک شمار ہوتا ہے اور اس نے سن 2010 سے 2014 کے عرصے میں سعودی عرب کو 90 ارب ڈالر کا اسلحہ فراہم کیا ہے۔ فرانس نے بھی گزشتہ سال سعودی عرب کو 10 ارب ڈالر مالیت کے اسلحے کی فروخت کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ اقوام متحدہ نے یمن میں سعودی اتحاد کے حملوں میں کلسٹر بموں کے استعمال، اسپتالوں، اسکولوں اور رہائشی آبادیوں کو نشانہ بنائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سعودی عرب نے علاقے کے بعض ملکوں کے تعاون اور امریکہ اور مغربی ملکوں کے ہری جھنڈی ملنے کے بعد گذشتہ سال 26، مارچ سے یمن پر جارحیت کا آغاز کیا تھا جو تاحال جاری ہے۔ سعودی حکومت اور اس کے اتحادیوں کی اس جارحیت میں 8 ہزار یمنی شہری شہید ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سعودی حکومت اور اس کے اتحادیوں کی جارحیت میں 30، ہزار سے زیادہ یمنی شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔