امن کے عمل میں شامل ہونے کے لئے طالبان کی نئی قیادت سے امریکی درخواست
امریکہ نے افغان طالبان کی نئی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امن مذاکرات میں شریک ہوکر افغانستان میں جاری جنگ کا خاتمہ کرے-
تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ افغان طالبان کے نئے سربراہ ہیبت اللہ آخوند زادہ کا نام بین الاقوامی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل نہیں ہے کہا کہ امریکہ امن کے عمل میں شامل ہونے کے لئے طالبان کی نئی قیادت کی کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے- اس ترجمان نے کہا کہ ملا اختر منصور کی ہلاکت نے ہیبت اللہ کے لئے یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ تشدد کے خاتمے کے لئے اقدامات کریں-
امریکی وزارت دفاع کے پریس سیکریٹری پیٹرکک نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حال ہی میں امریکہ نے طالبان کے لیڈر کو نشانہ بنایا ہے اور امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ضرورت پڑنے پر ، مستقبل میں بھی طالبان قیادت کو نشانہ بنائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ طالبان کی نئی قیادت افغانستان میں اتحادی حکومت کے ساتھ مل بیٹھ کر امن کا راستہ اختیار کرے گی۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکی صدر بارک اوبامانے اپنے دورہ جاپان کے موقع پر کہا تھا کہ گروہ طالبان، عنقریب حکومت افغانستان سے مذاکرات نہیں کرے گا اور وہ نئی قیادت کے انتخاب کے ساتھ ہی جنک جاری رکھے گا-
افغان طالبان کے نئے سربراہ نے بھی اپنے انتخاب کے بعد ایک پیغام میں کہا تھا کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا-