افزودگی معطلی کی کوئی تجویز نہیں دی گئی ہے : سید عباس عراچی
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ہم نے افزودگی معطلی کی کوئی تجویز نہیں دی اور امریکہ نے صفر فیصد افزودگی کی درخواست نہیں کی ہے
سحرنیوز/ایران: اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکہ کے ایم ایس این بی سی ٹیلی ویژن چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے افزودگی معطلی کی کوئی تجویز نہیں دی اورامریکہ نے صفر فیصد افزودگی کی درخواست نہیں کی ہے، اب ہم جس نکتے پر بات کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ کیسے یقینی بنایا جائے کہ ایران کا جوہری پروگرام بشمول افزودگی پرامن ہے اور ہمیشہ کے لیے پرامن رہے گا، اور یہ کہ اعتماد سازی کی فضا برقرار ہو اور ایران پرعائد پابندیاں ہٹا دی جائیں ۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اس لئے کہ اس قسم کے حربے پہلے بھی استعمال کئے جا چکے ہیں اور ہماری تنصیبات پر بڑے پیمانے پر حملے ہوئے، ہمارے سائنسدانوں کو شہید کیا گیا لیکن اس کے باوجود وہ ہمارے پرامن ایٹمی پروگرام کو ختم نہ کر سکے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
انہوں نے واضح کیا کہ یہ ٹیکنالوجی ہماری ہے اور اسے بمباری اور فوجی کارروائی سے تباہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا واحد حل سفارت کاری ہے۔ اس لیے امریکہ مذاکرات کی میز پر واپس آ گیا ہے اور معاہدے کا خواہاں ہے۔ ہم امن کے لیے تیار ہیں، ہم سفارت کاری کے لیے تیار ہیں، جس طرح ہم اپنے دفاع کے لیے تیار ہیں۔ سید عباس عراقچی نے کہا کہ اگر کوئی ایران کے ایٹمی پروگرام کا حل تلاش کر رہا ہے اور اس کے پرامن رہنے کو یقینی بنانا چاہتا ہے تو واحد راستہ مذاکرات اور سفارت کاری ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے اس انٹرویو میں کہا کہ ہم امریکی عوام کو اپنا دشمن نہیں سمجھتے، ہم ایران کے خلاف امریکی حکومت کی پالیسیوں کو دشمنی سمجھتے ہیں۔ سید عباس عراقچی نے اس سوال کے جواب میں کہ صدر ٹرمپ اور اراکین کانگریس کے لیے آپ کا کیا پیغام ہے؟ انہوں نے کہا کہ پیغام یہ ہے کہ سابقہ امریکی انتظامیہ نے ہمارے خلاف پابندیاں عائد کیں، جنگ مسلط کی گئی اور بہت کچھ کیا گیا لیکن ان میں سے کوئی بھی کارگر ثابت نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ ایرانی عوام سے احترام کی زبان میں بات کریں گے تو ہم بھی اسی زبان میں جواب دیں گے۔ لیکن اگر ہم سے طاقت کی زبان میں بات کریں گے تو ہم بھی اسی طرح جواب دیں گے۔