انتہاپسند بدھسٹوں پر فرقہ واریت کا الزام
حکومت میانمار نے انتہاپسند بدھسٹوں پر فرقہ واریت کا الزام عائد کیا ہے۔
میانمار کے مذہبی امور کے وزیر نے جمعرات کے روز انتہا پسند راہبوں کے گروہ "ما با تھا" کو سخت انتباہ دیا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ اس گروہ کو جس پر مسلمانوں کے خلاف نفرتوں کی آگ بھڑکانے کا الزام ہے، حکومت کی طرف سے باضابطہ طور تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ماباتھا نامی اس انتہاپسند گروہ کے لیڈر، "ویراتو" نے بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں حکمراں جماعت کی سربراہ آنگ سان سوچی کو ڈکٹیر قرار دیا اور آنگ سان سوچی پر الزام لگایا کہ وہ بدھ مت کے ماننے والے ایک اقلیتی گروہ کی مدد سے انہیں راستے سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ جمعرات کے روز میانمار کے مذھبی امور کے وزیر " آنگ کو" نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جو لوگ ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دے رہے ہیں انہیں اپنے اقدامات سے باز آجانا چاہیے۔ رنگون سے فرانس پریس کی رپورٹ کے مطابق " آنگ کو " نے کہا کہ اگر " ما با تھا" گروہ نے اگر فرقہ وارانہ جھڑپیں کرانے کے لئے اپنے تفرقہ انگیز تقریریں کرتے رہے تو ان کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔ یہ پہلی بار ہے کہ میانمار کی نو منتخب حکومت کے ایک وزیر نے " ماباتا" نامی انتہا پسند گروہ کو کھل کرہدف تنقید بنایا ہے۔ دوسری جانب بودہسٹوں کی اعلی کونسل نے اگرچہ "ما با تھا" نامی گروہ سے باضابطہ طور پر اپنی علیحدگی کا اعلان کیا ہے تاہم اس گروہ کو کالعدم قرار دیئے جانے کی درخواست نہیں کی ہے۔ واضح رہے کہ ماباتا نامی گروہ سے وابستہ راہب خصوصا " ویراتو" بے بنیاد پروپگنڈہ کر کے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ایک طویل عرصے تک نفرتوں کو پروان چڑھا رہا ہے کہ جس کے نتیجے میں سیکڑوں بےگناہ مسلمان اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں جبکہ مساجد اور مسلمانوں کی املاک کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا ہے۔