Sep ۲۱, ۲۰۱۶ ۱۶:۱۶ Asia/Tehran
  • گیارہ ستمبر کے واقعے میں مرنے والوں کے لواحقین کا سعودی عرب کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ

گیارہ ستمبر دوہزار ایک کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین نے سعودی عرب سمیت اس واقعے میں ملوث تمام مجرموں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا مطالبہ کیا ہے۔

پریس ٹی وی کے مطابق گیارہ ستمبر کے واقعے میں مرنے والوں کے لواحقین نے صدر براک اوباما کی جانب سے گیارہ ستمبر کے واقعے میں سعودی عرب کے کردار سے متعلق بل کو ویٹو کردینے کے فیصلے کے خلاف وائٹ ہاؤس کے سامنے مظاہرہ کیا۔ اس بل کی منظوری کی صورت میں گیارہ ستمبر کے واقعے میں مرنے والوں کے لواحقین امریکی عدالتوں میں سعودی عرب کے خلاف باضابطہ درخواست دائر اور تاوان کا مطالبہ کرسکیں گے۔ رپورٹ کے مطابق ایک جانب سعودی عرب کی شاہی حکومت اور گیارہ ستمبر کے واقعے میں ملوث عناصر کے درمیان رابطے منظر عام پر آگئے ہیں اور دوسری جانب حکومت امریکہ کو اس بل کی منظوری کی صورت میں واشنگٹن اورریاض کے درمیان تعلقات خراب ہونے کی خدشہ ہے۔ امریکہ سے لاکھوں ڈالر سرمایہ نکالنے کی سعودی دھمکیوں سے خوفزدہ امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ اس بل کو ویٹو کردیں گے۔ دوسری جانب صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اپنے شہریوں کو سعودی عرب کے خلاف شکایت دائر کرنے کی اجازت دیتا ہے تو پھر دوسرے ممالک بھی ڈرون حملوں یا دوسرے امریکی اقدامات کے نتیجے میں ہلاک ہونے شہریوں کے لواحقین کو امریکہ کے خلاف مقدمہ دائر کرنے اور تاوان کا مطالبہ کرنے کا حق دے دیں گے۔