راخین میں ہونے والے حملوں پر میانمار کی اسلامی کونسل کا ردعمل
میانمار کی اسلامی کونسل نے صوبہ راخین میں پولیس چیک پوسٹوں پر حملے کی مذمت کی ہے۔
میانمار کے دارالحکومت ینگون میں قائم اسلامی کونسل کے سیکریٹری نے اپنے ایک بیان میں پولیس چیک پوسٹوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ان حملوں میں مسلمانوں کے ملوث ہونے کو سختی کے ساتھ مسترد کردیا ہے۔ بیان میں یہ بات زور دیکر کہی گئی ہے کہ میانمار کے مسلمان ایسے دہشت گردانہ اقدامات کی حمایت نہیں کرتے اور اس کے نتیجے میں لاتعداد مشکلات جنم لے رہی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ میانمار کے صوبے راخین میں تین پولیس چیک پوسٹوں پر مسلح افراد کے حملوں میں گیارہ پولیس اہلکار مارے جا چکے ہیں۔ پولیس کا دعوی کہ اس نے چھبیس حملہ آوروں کو ہلاک کردیا ہے۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے لوگ غیر مسلح تھے اور انہیں پولیس چیک پوسٹوں پر حملے کے بعد مسلم آبادیوں پر مارے جانے والے چھاپوں کے دوران ہلاک کیا گیا ہے۔ سیکورٹی فورس کے حملوں کے بعد بڑی تعداد میں لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر بنگلہ دیش کی سرحد کی جانب فرار ہو گئے ہیں۔ میانمار میں مسلمانوں کو کافی عرصے سے تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور سنہ دو ہزار بارہ میں شروع ہونے والے انتہا پسند بدھوؤں کے وحشیانہ حملوں میں چھے سو پچاس مسلمان جاں بحق ہوگئے تھے۔ میانمار کی حکومت، روہنگیا مسلمانوں کو اس ملک کا شہری تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہے، جبکہ یہ مسلمان سیکڑوں برسوں سے وہاں آباد ہیں - اقوام متحدہ بھی میانمارکے مسلمانوں کو دنیا کی سب سے مظلوم اقلیت قراردے چکی ہے۔