امریکی صدرکے خلاف خواتین کا احتجاجی مظاہرہ
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی صدر کا منصب سنبھالنے کے بعد امریکا سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین نے بھی ٹرمپ کے خلاف احتجاجی مارچ کیا۔
لندن، پیرس اور دنیا کے دیگربڑے شہروں میں لاکھوں خواتین ’ڈمپ ٹرمپ‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکلیں اور انہوں نے امریکی خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جو پہلے ہی ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔
اس مارچ میں صرف خواتین ہی نہیں بلکہ بچے، جوان اور بوڑھے مردوں کی بھی بڑی تعداد موجود تھی جو ٹرمپ کے خواتین مخالف خیالات کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔
لندن کے ٹریفلگر اسکوائر میں ہزاروں خواتین جمع ہوئیں اور انہوں نے امریکی خواتین کی آواز سے آواز ملانے کی کوشش کی۔
فرانس کے شہر پیرس میں بھی ایفل ٹاور کے قریب تقریباً 2 ہزار افراد جمع ہوئے جنہوں نے ’آزادی اور برابری ‘ جیسے الفاظ پر مبنی بینرز اٹھا رکھے تھے۔
اس کے علاوہ بارسلونا، روم، ایمسٹرڈیم، بڈاپسٹ، پراگ، اوسلو، آکلینڈ، سڈنی، میلبرن، ویلنگٹن، جوہانسبرگ، برلن اور جنیوا میں بھی مظاہرین نے عورتوں کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے تضحیک آمیزبیانات کی مذمت کی۔
جنوبی افریقا میں ہونے والے مظاہرے میں شرکاء نے جو پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے ان پر ’سیاہ فاموں کی زندگی بھی معنی رکھتی ہے‘ جیسے جملے درج تھے۔
بیونس آئرس میں نئے امریکی صدر کے خلاف خواتین نے ریلی میں شرکت کرکے امریکیوں سے اظہار یکجہتی کیا ۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اپنی خاتون حریف ہیلری کلنٹن سمیت دیگر خواتین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 جنوری کو امریکی صدر کے عہدے کا حلف اٹھایا اور امریکا کے 45 ویں صدر بن گئے تاہم ان کی حلف برداری کی تقریب کے دوران بھی امریکا میں وائٹ ہاؤس کے باہر دھرنوں اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔