Apr ۱۳, ۲۰۱۷ ۱۵:۳۱ Asia/Tehran
  • دہشت گردوں کے حامیوں کو سلامتی کونسل میں ناکامی کا سامنا

روس نے شام کے علاقے خان شیخوں پر مشکوک کیمیائی حملے کی تحقیقات کے بارے میں امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کی پیش کردہ قرار داد کو ویٹو کردیا ہے۔

 روس نےدہشت گردوں کی حمایت کرنے والے اصل ملکوں ، امریک ،برطانیہ اور فرانس کی جانب سے خان شیخون پر کیمیائي حملے کی تحقیقات سے متلعق قرار داد کو ویٹو کرتے ہوئے ، اس واقعے کی تحقیقات کی غرض سے جداگانہ قرارداد سلامتی کونسل کو پیش کی ہے۔دہشت گردوں کے حامی ملکوں کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کے متن میں، حکومت شام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ خان شیخون حملے کے روز کیے جانے والے تمام فوجی آپریشن کے بارے میں معلومات سلامتی کونسل کو پیش کرے جس کی روس نے سختی کے ساتھ مخالفت کی ہے۔ادھر اقوام متحدہ میں شام کے مستقل نمائندے بشار جعفری نے کہا ہے کہ حکومت دمشق نے، دہشت گردوں کے ہاتھوں کیمیائي ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق دستاویزی شواہد کے ساتھ نوے خطوط اقوام متحدہ کو ارسال کیے ہیں لیکن ان پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے لیے کیمیائی مواد اور خاص طور سے سارین گیس ترکی کے راستے شام منتقل کی گئي ہے۔انہوں نے خان شخون پر مشکوک کیمیائی حملے کے بارے میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی پیش کردہ قرار داد کو مخاصمانہ اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی کے ساتھ مسترد کردیاچار اپریل کو جنوبی ادلب کے علاقے خان شیخون پر مشکوک کیمیائي حملے میں سو سے زائد افراد ہلاک اور چار سو کے قریب زخمی ہوئے تھے۔اس مشکوک واقعے کے بعد امریکہ کی سرکردگی میں قائم دہشت گردوں کے حامی مغربی عربی اتحاد نے شام کی حکومت پراس کا الزام عائد کرنے کی بھرپور کوششیں شروع کردیں جسے حکومت شام نے سختی کے ساتھ مسترد کردیا ہے۔امریکہ نے اس واقعے کو بہانہ بنا کر شام کے صوبے حمص میں کے علاقے شعیرات میں واقع شامی فوج کی ایک ایئر بیس کو درجنوں کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا تھا۔کیمیائی حملے کو بہانہ بنا کر امریکہ نے شام پر ایسے وقت میں حملہ کیا ہے جب، دہشت گرد گروہوں نے امریکہ ، برطانیہ، فرانس اور اقوام متحدہ کی خاموشی کے سائے میں، شامی عوام کے خلاف بارہا کیمیائی بموں کا استعمال کیا ہے۔

ٹیگس