سی پیک پرامریکی اعتراضات مسترد
https://urdu.sahartv.ir/news/world-i300401-سی_پیک_پرامریکی_اعتراضات_مسترد
چین اور پاکستان نے سی پیک پرامریکی اعتراضات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۰۸, ۲۰۱۷ ۰۴:۰۷ Asia/Tehran
  • سی پیک پرامریکی اعتراضات مسترد

چین اور پاکستان نے سی پیک پرامریکی اعتراضات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کےترجمان نفیس زکریا نے کہا ہے کہ سی پیک خطے کی ترقی، رابطے اور عوام کی فلاح کا منصوبہ ہے۔ دوسری جانب چینی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ایک پٹی ایک شاہراہ منصوبے‘ کو اقوام متحدہ کی تائید بھی حاصل ہے جب کہ سی پیک کے باعث مسئلہ کشمیر پر اس کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

امریکی وزیر دفاع جیمس میٹس کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ ہم نے بارہا یہ بات کہی ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ کسی تیسرے فریق کے خلاف نہیں اور اس کا علاقائی خودمختاری کے تنازعات سے بھی کوئی تعلق نہیں ۔ چینی حکومت نے کہا کہ 70 سے زیادہ ممالک اور عالمی تنظیموں نے OBOR پر چین کے ساتھ تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں جب کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل نے اسے اپنی اہم قراردادوں میں بھی شامل کیا ہے۔

سی پیک منصوبے کے تحت چین اور پاکستان کو سڑکوں، ریلوے، پائپ لائنز اور فائبر آپٹیکل کیبلز کے 3 ہزار کلومیٹر طویل نیٹ ورک کے ذریعے باہم منسلک کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ چین کے صوبے سنکیانگ کو براہ راست گوادر کی بندرگاہ سے منسلک کرے گا جہاں سے چین کو بحیرہ عرب اور پھر دنیا بھر تک رسائی ملے گی۔ سی پیک سے چین مشرق وسطیٰ سے آنے والی اپنی تیل سپلائی کو پائپ لائنوں کے ذریعے سنکیانگ تک پہنچائے گا جس سے ایندھن کی ترسیل پر اس کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔

واضح رہے کہ امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے کہا ہے کہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ متنازع علاقے سے گزرتا ہے جو خود کسی نئے تنازع کو جنم دے سکتا ہے اس لئے امریکا’ون بیلٹ ون روڈ‘ کی مخالفت کرتا ہے کیونکہ آج کی ترقی یافتہ دنیا میں ایک سے زیادہ سڑکیں اور گزرگاہیں موجود ہیں لہذا کسی بھی ملک کو صرف ’ایک گزرگاہ اور ایک سڑک‘ کے ذریعے اپنی اجارہ داری قائم نہیں کرنی چاہیے۔